ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مودی کی ہندوتوا سیاست کا روایتی ہتھیار: مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی مہم تیز

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، تشدد اور امتیازی سلوک نئی بات نہیں، مگر مودی سرکار کے دور میں یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، جنہیں عالمی سطح پر ایک سخت گیر ہندو قوم پرست لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے، اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ایک آزمودہ انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ جیسے ہی الیکشن قریب آتے ہیں، ہندو انتہا پسند تنظیمیں متحرک ہوجاتی ہیں اور بی جے پی کے حمایتی میڈیا چینلز نفرت انگیز بیانیے کو ہوا دینے لگتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی بی جے پی حکومت کے زیرِ انتظام ریاستوں میں انتخابات کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، حملوں اور تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے منظم مہمات چلائی جاتی ہیں، جس میں بھارتی میڈیا کا کردار بھی انتہائی جانبدارانہ ہے ، جو مسلمانوں کے گھروں پر حملے، ان کی دکانوں کو جلانے اور حتیٰ کہ ان کے قتل جیسے واقعات کو معمول کا حصہ بنا کر پیش کرتا ہے۔

رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی بھی محفوظ نہیں، انہیں ہراساں کیا جاتا ہے، گرفتار کیا جاتا ہے یا ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب ہندو انتہا پسند گروہ مسلمانوں پر حملے کر کے جشن مناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کر کے اپنی نفرت انگیز کارروائیوں کو فخر کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صرف 2023 میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے 668 واقعات درج کیے گئے جب کہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 1,165 تک جا پہنچی۔ اسی طرح بھارتی ویب سائٹ دی کوئنٹ نے رپورٹ کیا کہ اپریل سے مئی 2024 کے دوران ملک بھر میں کم از کم 184 نفرت پر مبنی جرائم رپورٹ ہوئے ۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ مودی کے بھارت میں مسلم دشمنی کس حد تک جڑ پکڑ چکی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کا طریقہ کار واضح ہے کہ انتخابات کے دوران معاشی ناکامیوں، بے روزگاری اور عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے تاکہ ہندو ووٹ بینک کو متحد کیا جاسکے۔

آر ایس ایس اور بی جے پی کے مشترکہ جلسوں میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات عام ہوچکے ہیں جب کہ پولیس اور عدلیہ کی خاموشی نے انتہا پسندوں کو مزید جری بنادیا ہے۔

مودی کا یہ خطرناک کھیل نہ صرف بھارت کے اندر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے زہر بن چکا ہے ۔ عالمی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر اس نفرت انگیز سیاست کو نہ روکا گیا تو بھارت ایک ایسے بحران میں داخل ہو جائے گا جس سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں