ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نیب کی سال 2025 کی تیسری سہ ماہی میں قومی خزانے کی آمدنی میں بے مثال اضافہ

قومی احتساب بیورو (نیب) نے شفافیت اور احتساب کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے سال2025 کی تیسری سہ ماہی میں 1,102.04 ارب روپے (2 11.0 کھرب روپے) کی وصولی کی ہے،

حالیہ بازیابی پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں 242% زائد ہے۔ یہ کامیابی،گزشتہ سہ ماہی میں کی گئی 456.3 ارب روپے کی بازیابی سے 645.74 ارب روپے زیادہ ہے جو کہ نیب کی قومی اثاثوں کے تحفظ اور عوامی اعتماد کو قائم رکھنے کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔

نیب نے 2025 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں مجموعی طور پر 1,649.36 ارب روپے (16.5 کھرب روپے) کی ریکوری کی ہے۔ اس ریکوری میں سے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی مالیت 1,637.15 ارب روپے (16.4 کھرب روپے) ہے،

جو مختلف وفاقی اور صوبائی وزارتوں، محکموں اور مالیاتی اداروں کو منتقل کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، ”عوامی دھوکہ دہی” کے مختلف مقدمات میں 17,194 متاثرین، نیب کی ریکوریز کی بدولت مستفید ہوئے۔

گزشتہ دو سالوں کے دوران، قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک غیر معمولی سنگ میل عبور کیا ہے اور 6,956.8 ارب روپے (69.6 کھرب روپے) کی ریکوری کی ہے، جو بیورو کے قیام کے بعد 839.08 ارب روپے کی ریکوری کے مقابلے میں 829% کا اضافہ ہے۔

یہ شاندار کامیابی نیب کے افسران کی محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے بدعنوان اور بے ضمیر عناصر سے اربوں روپے بازیاب کر کے قومی وسائل کا تحفظ کیا ہے۔

2025کی تیسری سہ ماہی 2025 کی اہم وصولیاں اور کامیابیاں:
نیب کراچی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کے مقدمے میں 2.8 ارب روپے مالیت کے 02 قیمتی پلاٹ بازیاب کر کے KPT کے حوالے کئے۔

نیب سکھر نے 2.5ارب روپے مالیت کی نیشنل ہائی اتھارٹی کی 361 ایکڑ اضافی اراضی کی بازیابی کی۔

اس سہ ماہی کے دوران نیب نے 1.39 ملین ایکڑپر محیط منگرووز جنگلات کی اراضی بازیاب کرائی، جس کی مالیت 1,104.97 ارب روپے ہے۔ اس سے جنگلات کی اراضی کی کل ریکوری 2,592.74 ارب روپے (25.9 کھرب روپے) تک پہنچ گئی ہے۔

نیب بلوچستان نے جنگلات کی 414,036 ایکڑ اراضی بازیاب کرای کی، جس کی مالیت 44.8 ارب روپے ہے۔

نیب خیبر پختونخواہ نے 3.2ارب کی غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی ریاستی اراضی ریکور کر کے وزارت صنعت و پیداوار، حکومت پاکستان کے حوالے کی۔

نیب نے عوامی دھوکہ دہی کے متاثرین کا ازالہ کرتے ہوئے B4U کیس کے 5008متاثرین کو پہلی باررقوم کی آن لائن ادائیگی/تقسیم کی۔

نیب نے ملکی اور غیر ملکی سطح پر دولت کی غیر قانونی جمع وجوع کو روکنے کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ کے ضابطہ کار کے تحت اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔

نیب نے قابل اعتماد معلومات اور شواہد کی بنیاد پر متعدد اہم افراد اور اداروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جو منی لانڈرنگ، غبن شدہ آمدنی کوبیرون منتقل کرنے اور دیگر مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں۔

ابتدائی تخمینوں کے مطابق ان مقدمات سے بڑی ریکوریاں متوقع ہیں جو قومی خزانے میں واضح اضافہ کا باعث بنیں گی۔ نیب اس بات کا عزم رکھتا ہے کہ ایسے تمام مقدمات کو بلا امتیاز بھرپور طریقے سے اپنے انجام تک پہنچایا جائے، جس سے احتساب اور مالیاتی شفافیت میں مزید اضافہ ہو۔

نیب کا قیام قومی احتساب آرڈیننس کے تحت ہوا ہے جس کا مقصد بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔ عوامی آگاہی، روک تھام اور عملدرآمدنیب کی حکمت عملی میں شامل ہیں۔

تیسری سہ ماہی کے اعداد و شمار، نیب کی بروقت کاوشوں، ادارے کی کارکردگی میں بہتری، اور حالیہ مہینوں میں نافذ کی گئی کامیاب حکمت عملیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

عوام کو مزید آگاہی دی جاتی ہے کہ وہ بدعنوانی کیخلاف اس جنگ میں نیب کے ساتھ مزید تعاون کریں اور ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لئے اپنا حصہ ڈالیں۔

  • منیر عقیل انصاری

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں