کراچی: شہر قائد کے باسیوں کے لیے بجلی کی قیمتوں سے متعلق ایک نئی تشویش پیدا کردی گئی ہے۔ کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو مونس عبداللہ علوی نے واضح کیا ہے کہ ملٹی ایئر ٹیرف میں کی گئی کمی کے اثرات براہ راست صارفین پر پڑیں گے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نئے ٹیرف میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ رواں سال جون میں جاری ہونے والا ابتدائی ٹیرف ڈھائی سال کی طویل مشاورت، تحقیق اور آزاد ذرائع سے اعداد و شمار کی جانچ کے بعد جاری کیا گیا تھا، مگر حیرت انگیز طور پر محض چند ماہ کے اندر ہی اس ٹیرف کو یکسر بدل دیا گیا۔
مونس علوی نے کہا کہ نیپرا کی جانب سے اس قدر جلدی نظرثانی نے کے الیکٹرک کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے، کیونکہ کمپنی کو اب یہ طے کرنا ہے کہ کم شدہ ٹیرف کے باوجود بجلی کی فراہمی اور آپریشنز کس طرح جاری رکھے جائیں۔
سی ای او کے مطابق کے الیکٹرک کی انتظامیہ اس وقت نظرثانی شدہ ٹیرف کے مالی اور تکنیکی اثرات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے تاکہ ممکنہ حد تک صارفین پر بوجھ کم ڈالا جا سکے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اس کٹوتی کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ اثرات صارفین پر ضرور مرتب ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کی ترجیح یہ ہے کہ بجلی کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے، مگر نئے حالات میں کئی اقدامات پر نظرثانی ناگزیر ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر بورڈ کو بھی آگاہ کردیا ہے اور مستقبل کی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے غور و خوض جاری ہے۔