ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹیکس فراڈ کیسز میں گرفتاری سے قبل تاجر نمائندوں سے لازمی مشاورت ہوگی، ایف بی آر

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس فراڈ کے الزامات میں تاجروں کی گرفتاری کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اب کسی بھی تاجر کے خلاف کارروائی سے قبل تاجر تنظیموں کے نمائندوں سے باضابطہ مشاورت کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے کاروباری و تاجر تنظیموں کے نمائندگان کی فہرست بھی جاری کردی ہے، جو ملک بھر کے مختلف چیمبرز اور ایسوسی ایشنز سے تعلق رکھتے ہیں۔

جمعرات کے روز جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایف بی آر نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 02 آف 2025 کے تحت ایک جامع طریقہ کار متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد تاجروں پر غیر ضروری دباؤ اور بلاجواز گرفتاریوں کی روک تھام ہے۔

اس آرڈر کے تحت پاکستان بزنس کونسل، ایف پی سی سی آئی، لاہور چیمبر، اپٹما، ملتان، کوئٹہ، حیدرآباد اور سرحد چیمبرز آف کامرس کے نمائندگان کو شامل کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق کسی بھی تاجر کے خلاف تحقیقات کی منظوری ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز کی اجازت کے بغیر نہیں دی جائے گی۔ اس سے پہلے کمشنر پر لازم ہوگا کہ وہ متعلقہ زون سے کاروباری برادری کے دو نمائندوں سے مشاورت کرے۔ یہ نمائندے قبل از گرفتاری کمیٹی میں شامل ہوں گے تاکہ ہر فیصلہ شفافیت کے ساتھ کیا جائے۔

ایف بی آر کے مطابق یہ اقدام کاروباری برادری کے اعتماد کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ کمیٹی میں شامل نمائندے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تاجروں پر کسی بھی مرحلے پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالا جائے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ تمام تاجر تنظیمیں اپنے دو ایسے نمائندے نامزد کریں جو باقاعدہ ٹیکس دہندہ اور نمایاں کاروباری حیثیت رکھتے ہوں۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ ہر ریجن کے لیے نمائندگان کی تقرری ان کی ٹیکس ادائیگی، برآمدات اور کمپلائنس ہسٹری کی بنیاد پر کی جائے گی جب کہ کسی ایک زون میں ایک ہی تنظیم سے صرف ایک نمائندہ منتخب ہوگا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں