اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین کے مابین جی ایس پی پلس تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق ہوگیا۔
وزارتِ تجارت میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین نے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت شراکت کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی حقوق کے فروغ پر جامع تبادلۂ خیال ہوا۔
ملاقات کے دوران فریقین نے اتفاق کیا کہ جی ایس پی پلس فریم ورک نہ صرف پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم کرتا ہے بلکہ پائیدار ترقی اور شفاف شراکت داری کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیرِ تجارت جام کمال خان نے وفد کو انسانی حقوق، مزدوروں کی فلاح، موسمیاتی اقدامات اور سماجی اصلاحات سے متعلق حالیہ حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
جام کمال خان نے بتایا کہ پاکستان نے انسانی حقوق کے تحفظ میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کو “A اسٹیٹس” کی عالمی درجہ بندی ملنا اسی پیش رفت کا اعتراف ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے کم عمری کی شادی کے خلاف اسلام آباد چائلڈ میرج ری اسٹرینٹ ایکٹ منظور کیا ہے جب کہ صحافیوں کے تحفظ اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھی اہم قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔
وزیرِ تجارت نے کہا کہ پاکستان کی معیشت صنعتی توسیع اور ہنرمند افرادی قوت پر انحصار کرتی ہے۔ ملک کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، اس لیے پیشہ ورانہ تربیت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ حکومت نے مالیاتی پالیسی میں بہتری کے لیے شرحِ سود کو 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد تک لایا ہے، تاکہ صنعتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
یورپی وفد نے پاکستان کی مہمان نوازی، مثبت شراکت داری اور سماجی اصلاحات کو سراہا۔ دونوں فریقوں نے باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے دوران یورپی سرمایہ کاروں کو زراعت، خوراک، صنعت اور ای کامرس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی گئی۔
یہ ملاقات پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک مثبت سنگ میل سمجھی جا رہی ہے، جو مستقبل میں نہ صرف تجارتی حجم بڑھانے بلکہ روزگار اور برآمدات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔