پاکستان کے توانائی کے شعبے میں آج ایک تاریخی باب رقم ہو گیا۔ امریکی خام تیل سے لدا پہلا بحری جہاز ایم ٹی پیگاسس بلوچستان کے ساحل پر آج پہنچ رہا ہے۔
یہ پاکستان کی بندرگاہوں پر آنے والا سب سے بڑا امریکی تیل بردار جہاز ہے جو سنرجیکو کے آف شور آئل ٹرمینل پر برتھ کرے گا۔ اس جہاز کے ذریعے امریکا کی ریاست ہیوسٹن سے 10 لاکھ بیرل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ آئل پاکستان لایا گیا ہے۔
سنرجیکو نے یہ درآمد پاکستان اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ بڑے تجارتی معاہدے کے تحت کی ہے۔ اس تاریخی پیش رفت کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان خام تیل کی دوطرفہ تجارت کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ امریکی تیل براہِ راست ملک میں درآمد کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں نئی راہیں کھلیں گی بلکہ تجارتی تعلقات میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
ایم ٹی پیگاسس نے 14 ستمبر کو ہیوسٹن کی بندرگاہ سے سفر شروع کیا اور آج بلوچستان میں واقع سنرجیکو کے ایس پی ایم ٹرمینل پر لنگر انداز ہو گا۔ کمپنی نے 2017 میں بھی پاکستان میں سب سے بڑے خام تیل کے جہاز کو اپنے ٹرمینل پر لانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
سنرجیکو حکام کے مطابق یہ صرف شروعات ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ دوسرا آئل کارگو نومبر کے وسط میں لایا جائے گا، جبکہ تیسرا آئل کارگو 2026 میں متوقع ہے۔ ان منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کے توانائی کے ذخائر میں استحکام آنے اور درآمدی تنوع بڑھنے کی امید ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی تیل کی یہ پہلی درآمد پاکستان کے لیے نہ صرف معاشی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اہم سنگِ میل ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں اعتماد کی نئی فضا قائم کرے گی۔ سنرجیکو کے اس اقدام نے پاکستان کو بین الاقوامی توانائی منڈیوں میں ایک فعال شراکت دار کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔