ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

فلسطینی قیدی پر تشدد کی ویڈیو لیک پر اسرائیلی افسرہ گھر میں نظر بند

تل ابیب کی ایک عدالت نے اسرائیلی فوج کی سابق پراسیکیوٹر جنرل یفات ٹومر یروشلمی کو گھر پر نظر بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کی رہائی منظور کرلی ہے ۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق عدالت نے فیصلہ دیا کہ یروشلمی آئندہ 10 روز تک گھر پر نظر بند رہیں گی اور وہ صرف تحقیقاتی ادارے کو اطلاع دے کر اپنے وکیل سے ملاقات کے لیے گھر سے باہر جا سکیں گی،  عدالت نے انہیں 55 دن تک کیس میں شامل دیگر افراد سے رابطہ کرنے سے بھی منع کردیا ہے۔

یہ معاملہ اسرائیل کے بدنامِ زمانہ صدی تائمان جیل سے شروع ہوا، جہاں بنائی گئی ایک ویڈیو جولائی 2024 میں منظرعام پر آئی تھی،  فوٹیج میں اسرائیلی فوجیوں کو ایک فلسطینی قیدی کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں قیدی کو شدید چوٹیں آئیں۔

رپورٹس کے مطابق یروشلمی نے اکتوبر 2025 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ویڈیو انہی کی ہدایت پر جاری کی گئی تھی تاکہ  فوجی عدالتی نظام کے خلاف پھیلنے والے جھوٹے پروپیگنڈے کا جواب دیا جا سکے۔

اس واقعے کے بعد اسرائیلی وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق پولیس نے ایک موبائل فون برآمد کیا ہے جو ممکنہ طور پر یروشلمی کا ہے، یہ فون ہرزیلیا کے ساحل پر شہریوں کو ملا تھا،  پولیس نے تصدیق کی ہے کہ موبائل قبضے میں لے لیا گیا ہے اور اس کی فرانزک جانچ جاری ہے۔

واضح رہےکہ ،  یروشلمی کو گزشتہ دنوں  ایک ویڈیو لیک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں اسرائیلی فوجیوں کو ایک فلسطینی قیدی پر تشدد کرتے دیکھا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں اس وقت 10 ہزار سے زائد فلسطینی قیدی موجود ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور وہ تشدد، بھوک اور علاج کی عدم فراہمی جیسے سنگین حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جن کے باعث متعدد قیدی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

خیال رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں