ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ پورٹ قاسم اتھارٹی ڈریجنگ کا 60 ارب روپے کا بڑا ٹھیکہ بغیر ٹینڈر کے ایک نجی کمپنی کو دینے کی کوشش کر رہی تھی۔
شکایت میں کہا گیا کہ اس فیصلے کو درست ثابت کرنے کے لیے غلط طور پر وزیراعظم کی ہدایات کا حوالہ دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق یہ طریقہ کار قوانین کی خلاف ورزی ہے اور قومی خزانے کو بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ پورٹ قاسم پر ڈریجنگ کا کام سترہ سال سے تعطل کا شکار ہے اور 2007 میں اسے گہرا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 2008 میں ٹینڈر بھی جاری ہوا تھا جس میں سب سے کم بولی 10.7 ارب روپے تھی، مگر بغیر وجہ بتائے منسوخ کردیا گیا۔ برسوں کی تاخیر کے باعث اب اسی منصوبے کی لاگت بڑھ کر 60 ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔
ٹرانس پیرنسی نے کہا کہ پی پی آر اے رولز سے استثنیٰ لینے کی کوشش دراصل ایک مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ تنظیم نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ مسابقتی ٹینڈرنگ نہ کرنے سے قیمتوں کا درست تعین نہیں ہو سکے گا۔ اس عمل سے قومی خزانے پر بھاری مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
تنظیم نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کا حکم دیں، جیسے چند روز پہلے لیاری ایکسپریس وے کے بغیر ٹینڈر ٹھیکے پر انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔ ٹرانس پیرنسی کا کہنا ہے کہ اتھارٹی کو قانون کے مطابق کھلے بین الاقوامی ٹینڈرز جاری کرنے چاہئیں۔ اس سے شفافیت بھی برقرار رہتی ہے اور اخراجات بھی کم رہتے ہیں۔
آخر میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ اس شخص یا ادارے کا احتساب کیا جائے جس نے برسوں پہلے کم لاگت پر مکمل ہونے والا منصوبہ روک کر اسے چھ گنا مہنگا کر دیا۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ پورٹ قاسم اتھارٹی اور این ڈی ایم ایس نے ٹینڈرنگ کا مرحلہ کیوں چھوڑنے کی کوشش کی۔ خاص طور پر جب سیدھا ٹھیکہ دینے سے صرف چند دنوں کی ہی بچت ہوتی ہے۔