پشاور:وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حلقے میں منشیات کے کارخانوں اور اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت الزامات عائد کیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا نے کہا کہ وادی تیراہ میں منشیات کے کارخانے موجود ہیں اور ضلع خیبر سے منشیات پورے ملک میں اسمگل کی جاتی ہے، منشیات کے دھندے میں پی ٹی آئی کے لوگ ملوث ہیں اور منشیات کا پیسہ سرحد پار بھی جاتا ہے، جس کا استعمال دہشتگردی اور ریاست کے خلاف سرگرمیوں کے لیے کیا جاتا ہے۔
اختیار ولی نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے منشیات کی تردید کو حقائق کی نفی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ضلع خیبر میں منشیات کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، جس حلقے میں وزیراعلیٰ کے اپنے علاقے میں منشیات تیار ہو رہی ہے، اسے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ الزام سیاسی تنازع اور صوبے میں منشیات کے خلاف جاری مباحث کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس پر اگلے روز صوبائی حکومت کی جانب سے ردعمل متوقع ہے۔