اسلام آباد میں سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ انڈونیشیا کے صدر دو روزہ سرکاری دورے پر پیر کو پاکستان پہنچیں گے۔ ان کا یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر ہو رہا ہے، جو گزشتہ دورۂ انڈونیشیا کے موقع پر دی گئی تھی اور اب باضابطہ طور پر قبول کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس اہم دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی، دفاعی، ثقافتی اور عوامی سطح پر روابط کو نئی قوت فراہم کرنا ہے۔ صدرِ انڈونیشیا کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان آئے گا جو مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم ملاقاتیں کرے گا۔
اپنے قیام کے دوران مہمان صدر کی وزیراعظم شہباز شریف سے ون آن ون ملاقات شیڈول ہے، جب کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات بھی متوقع ہے۔ عسکری قیادت سے ان کی ملاقات کا بھی قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جسے دوطرفہ دفاعی تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان آزادانہ تجارت (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) کے مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی پیداوار اور مجموعی اقتصادی تعاون میں اضافہ کرنے پر جامع مشاورت کریں گے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت — انڈونیشیا — کے درمیان تعلقات کو ایک نئی جہت دے سکتا ہے۔