اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مخصوص پارلیمانی اراکین نے اعتراف کیا ہےکہ پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فوجی قیادت کے خلاف بار بار تضحیک آمیز اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے نے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے آنے والے سخت ردعمل میں اہم کردار ادا کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت میں اس معاملے پر بحث ہوئی، جہاں کچھ سینئر رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ عمران خان نے گزشتہ دو سال کے دوران تقریباً 100 بار فوجی قیادت کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔
ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب ہم مسلسل اور بار بار یہ سب کریں گے تو دوسری طرف سے کیا توقع رکھیں گے؟
پی ٹی آئی کے اندرونی مسائل میں یہ بھی شامل ہے کہ پارٹی کے کئی رہنما بانی چیئرمین سے اختلاف رکھتے ہیں، خاص طور پر فوجی قیادت پر ان کے مسلسل ذاتی حملوں کے معاملے پر لیکن عملی طور پر یہ اختلافات پارٹی کے فیصلوں یا بیانیے پر اثر انداز نہیں ہوتے، پارٹی کا موجودہ بیانیہ اب بھی اڈیالہ جیل سے طے ہونے والے انداز کو ہی منعکس کرتا ہے، چاہے اندرونی حلقوں میں کتنی ہی تحفظات کیوں نہ ہوں۔
خیال رہےکہ گزشتہ جمعے کو آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ میں عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ذہنی مریض اور سنگین قومی سلامتی کا خطرہ قرار دیا، اگرچہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کا نام نہیں لیا لیکن ان کے بیان کا واضح ہدف جیل میں موجود رہنما اور پارٹی تھی۔
فوج کے ترجمان کے مطابق عمران خان اور پی ٹی آئی کا بیانیہ ریاست مخالف اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ بنتا جا رہا ہے اور اس کی عالمی سطح پر پذیرائی ایسے ممالک میں ہو رہی ہے جن کی افواج ماضی میں پاک فوج کے ہاتھوں شکست کھا چکی ہیں۔