راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے باہر دیے گئے دھرنے نے سیاسی محاذ آرائی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ مقدمہ تھانہ صدر بیرونی میں انسداد دہشتگردی ایکٹ سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں عمران خان کی بہن علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجا، عالیہ حمزہ، قاسم خان اور دیگر اہم شخصیات کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق یہ مقدمہ مجموعی طور پر 35 نامزد اور تقریباً 400 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا، جن پر ریاستی اداروں کے خلاف منظم تشدد اور ہنگامہ آرائی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھرنے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پٹرول بموں سے حملے کیے گئے، اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دفعہ 144 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ احتجاج پرامن نہیں رہا بلکہ اسے دانستہ طور پر پرتشدد رخ دیا گیا، جس سے شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالا گیا۔
پولیس کے مطابق موقع پر موجود 14 افراد کو گرفتار کر کے انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر نامعلوم ملزمان کی شناخت کے لیے ویڈیوز، تصاویر اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی مزید افراد کی شناخت مکمل ہوگی، قانونی کارروائی میں تیزی لائی جائے گی اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقدمے میں شامل ناموں میں نعیم پنجوتھا، تابش فاروق، طیبہ راجا، نادیہ خٹک، ہارون، راجا اسد عباس، ظفر گوندل اور شفقت عباس بھی شامل ہیں ۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دھرنا محض احتجاج نہیں بلکہ ایک منظم کارروائی تھی، جس کا مقصد ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا تھا۔