ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

یہ عدالتی نہیں”اوپر”سے لایا گیا تیارشدہ فیصلہ ہے،پی ٹی آئی

اسلام آباد:توشہ خانہ ٹو میں پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سنائی گئی سزا پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آگیا۔

مرکزی شعبہ اطلاعات پاکستان تحریک انصاف کے مطابق توشہ خانہ ٹو کے نام نہاد کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سنائی گئی 17، 17 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا مکمل طور پر غیرآئینی، غیرقانونی، بدنیتی پر مبنی اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔

 یہ کوئی عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ “اوپر” سے لکھوا کر لایا گیا ایک تیار شدہ فیصلہ ہے جو ایک نام نہاد عدالت نے اڈیالہ جیل میں پڑھ کر سنادیا۔

یہ امر ریکارڈ پر ہے کہ سماعت کے دوران ہی استغاثہ کے گواہ جھوٹے ثابت ہو چکے تھے خود حکومتی گواہوں (بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان) نے تسلیم کیا کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کا مکمل ریکارڈ اور دستاویزات موجود ہیں۔

 کیس کی بنیاد بننے والا کلیدی گواہ عدالت میں مکمل طور پر ڈس کریڈٹ ہو چکا تھا، ان حقائق کے بعد اس کیس کا چلنا ہی غیرقانونی تھا۔

 سزا سنانا تو دور کی بات ہے جب کہ فیصلہ سناتے وقت نہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا موجود تھے، نہ اہلِ خانہ کو عدالت آنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی بنیادی عدالتی تقاضے پورے کیے گئے، یہ کھلی توہینِ عدالت، توہینِ قانون اور توہینِ انصاف ہے۔

پاکستان تحریک انصاف واضح کرتی ہے کہ توشہ خانہ ٹو میں دی جانے والی سزا ایک ہی الزام پر دوسری بار سزا ہے، جو پاکستان کے آئین، فوجداری قانون اور عالمی اصول کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

 قانون اور عدالتی تاریخ میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں کہ جس الزام پر پہلے ہی ٹرائل اور سزا ہو چکی ہو، اسی الزام کو نیا نام دے کر دوبارہ سزا سنا دی جائے، جج کا یہ طرزِ عمل اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ آج دلائل مکمل نہیں کیے گئے اور فیصلہ پہلے ہی لکھا جا چکا تھا، عدالت ایک آزاد فورم نہیں بلکہ سیاسی انجینئرنگ کا آلہ بن چکی ہے۔

پی ٹی آئی کے شعبہ اطلاعات کا کہنا ہے کہ چیئرمین عمران خان نے یکم اکتوبر کو خود ان کیسز کی حقیقت قوم اور دنیا کے سامنے رکھ دی تھی، اور آج یہ فیصلہ اس بات پر آخری مہر ہے کہ پاکستان میں رول آف لاءدفن اور سیاسی انتقام کو عدلیہ کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔

 پاکستان تحریک انصاف جج شاہ رخ ارجمند شاہ کی اس نام نہاد عدالت کو کینگرو کورٹ قرار دیتی ہے، جس کا واحد مقصد عمران خان کی غیرقانونی قید کو طول دینا اور عوام کے مینڈیٹ سے خوفزدہ حکمرانوں کو وقتی سہارا فراہم کرنا ہے۔

 پاکستان تحریک انصاف اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، یہ فیصلے پاکستان کی عدالتی تاریخ میں بدنما ترین سیاہ باب کے طور پہ یاد رکھے جائیں گے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں