لندن:تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق مشیر اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے قریبی معاون شہزاد اکبر کو برطانیہ کے شہر کیمبرج میں اپنے گھر کے قریب ایک پرتشدد حملے میں شدید زخمی کر دیا گیا، واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ پی ٹی آئی نے اس حملے کو سیاسی مخالفین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی خطرناک مثال قرار دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے بتایا کہ حملہ آور ایک سفید فام شخص تھا جس نے ماسک، دستانے اور حفاظتی لباس پہن رکھا تھا، آور نے کئی منٹ تک ان پر تشدد کیا، جس کے نتیجے میں ان کی ناک ٹوٹ گئی جبکہ جبڑے میں فریکچر ہوا، حملہ غیر متوقع اور انتہائی سفاکانہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ صبح تقریباً 8 بجے دروازے کی گھنٹی بجنے پر وہ بیدار ہوئے اور جیسے ہی دروازہ کھولا، حملہ آور نے اچانک گھونسوں سے حملہ کر دیا، مزاحمت کے بعد حملہ آور کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹا، دوبارہ واپس آ کر ایک مرتبہ پھر تشدد کیا، حملے کے دوران حملہ آور نے ان کی تصاویر اور ویڈیو بھی بنائیں۔
زخمی ہونے کے بعد شہزاد اکبر کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی، انہوں نے واقعے کے بعد پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کرا دی ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے حملہ آور کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
پی ٹی آئی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ برطانیہ میں مقیم سیاسی مخالفین اور ناقدین کی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما جنید اکبر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر پر حملہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے، جبکہ ناک اور جبڑے کی ہڈی ٹوٹنا تشدد کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
جنید اکبر نے کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے تشدد کا سہارا لینا بزدلی کے مترادف ہے اور اوورسیز پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ اس ظلم کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں۔ پی ٹی آئی کے مطابق یہ وحشت ناک واقعہ شہزاد اکبر پر ماضی میں ہونے والے حملوں کی ایک کڑی ہے، جو انہیں پاکستان چھوڑنے پر مجبور کرنے کے باوجود بھی جاری ہیں۔