ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بی جے پی رہنما کے بیان نے بھارت میں مسلم دشمن سیاست کا اصل چہرہ عیاں کر دیا

بھارت میں حکمراں جماعت بی جے پی کے سینئر رہنما سوویندو ادھیکاری کے مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی بیان نے نہ صرف شدید سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے بلکہ ہندوتوا نظریے کے تحت پروان چڑھتی مسلم دشمن سیاست کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق کولکتہ میں بنگلا دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے باہر دیے گئے اس بیان کو بھارت میں کھلے عام تشدد، اجتماعی قتل اور حتیٰ کہ مسلم نسل کشی پر اکسانے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے، جس پر ملک بھر میں گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سوویندو ادھیکاری نے اپنے بیان میں کہا کہ جیسے اسرائیل نے غزہ میں کارروائی کر کے سبق سکھایا اسی طرز پر بھارت کو بھی قدم اٹھانا چاہیے۔ اس بیان کو انسانی حقوق کے کارکنان، اپوزیشن جماعتوں اور سماجی حلقوں نے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے کیونکہ اس میں ایک پوری مذہبی برادری کے خلاف تشدد کو نہ صرف جائز ٹھہرانے کی کوشش کی گئی بلکہ اسے ریاستی پالیسی کے طور پر اپنانے کا اشارہ بھی دیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات بھارت کے آئینی اصولوں، سیکولر تشخص اور سماجی ہم آہنگی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔

بھارتی جریدے دی ہندو کے مطابق ترنمول کانگریس نے سوویندو ادھیکاری کے بیان کو  کھلی نفرت انگیز تقریر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مکمل طور پر اجتماعی قتل اور نسل کشی کی کال ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات نہ صرف مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ ملک کو داخلی انتشار اور تشدد کی طرف دھکیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ترنمول کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر فوری قانونی کارروائی کی جائے تاکہ نفرت انگیز سیاست کا راستہ روکا جا سکے۔

واضح رہے کہ انڈیا ہیٹ لیب کی ایک رپورٹ نے بھی صورتحال کی سنگینی کو واضح کیا ہے، جس کے مطابق پہلگام حملے کے بعد صرف 10 دن کے اندر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے 64 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں مسلم مخالف بیانیہ منظم انداز میں فروغ پا رہا ہے اور سیاسی سرپرستی کے باعث شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے بیانات وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک منظم نظریاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوویندو ادھیکاری کا بیان کسی ایک فرد کی انتہا پسند سوچ تک محدود نہیں بلکہ بی جے پی کے ہندوتوا نظریے کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت مسلمانوں کو دانستہ طور پر  اندرونی دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ غزہ کی مثال دے کر تشدد کو جائز قرار دینا دراصل بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کو معمول بنانے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جو مستقبل میں سنگین سماجی اور سیاسی نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایسے بیانات پر ریاستی سطح پر خاموشی برقرار رہی تو بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ نفرت انگیز سیاست نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو تباہ کرتی ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

مودی دورِ حکومت میں بھارتی مسلمان اور دیگر اقلیتیں پہلے ہی عدم تحفظ، امتیازی سلوک اور خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر نفرت اور تشدد پر مبنی اس سیاست کا بروقت سدباب نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام کو جنم دے سکتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں