ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

2025ء میں جنگیں اور عالمی تنازعات: لاکھوں جانیں ضائع، انسانی بحران شدید ہوگیا

دنیا بھر میں 2025 ایک ایسا سال بن کر سامنے آیا ہے جسے عالمی سطح پر خونریزی، تباہی اور انسانی المیوں کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور مسلح تنازعات نے نہ صرف لاکھوں انسانی جانیں نگل لیں بلکہ کروڑوں افراد کو بے گھر، بھوکا اور بنیادی انسانی سہولیات سے محروم کر دیا۔ یوکرین، غزہ، سوڈان، مشرقی کانگو، میانمر اور دیگر خطے اس وقت عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بنے ہوئے ہیں۔

یورپ میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ اپنے کئی سال مکمل کر چکی ہے، مگر 2025 میں اس کی شدت میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔

مغربی ذرائع کے مطابق اب تک اس جنگ میں ساڑھے 3 لاکھ کے قریب افراد براہِ راست ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت فوجیوں کی ہے جب کہ شہری ہلاکتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ لاکھوں یوکرینی شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور ملک کا بڑا حصہ معاشی طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس کے اثرات پورے یورپ پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں سب سے زیادہ دردناک اور انسانیت سوز صورتحال غزہ میں دیکھی گئی، جہاں اسرائیلی حملوں نے پورے خطے کو کھنڈر بنا دیا۔

2025 کے دوران سرکاری اور غیر سرکاری اندازوں کے مطابق 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ غزہ کی تقریباً پوری آبادی کسی نہ کسی شکل میں بے گھر ہو چکی ہے، اسپتال تباہ، خوراک نایاب اور علاج ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔

فلسطینی عوام کے لیے یہ جنگ محض عسکری نہیں بلکہ بقا کی جنگ بن چکی ہے، جہاں عالمی طاقتوں کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

سوڈان کی خانہ جنگی بھی 2025 میں بدترین انسانی بحران کی شکل اختیار کر گئی۔ لاکھوں افراد ہلاک یا شدید متاثر ہوئے جب کہ کروڑوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔ غذائی قلت، بیماریوں اور تشدد نے خاص طور پر بچوں کو نشانہ بنایا اور بعض علاقوں میں قحط کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے۔

افریقا کے مشرقی حصے، خصوصاً جمہوریہ کانگو میں معدنی وسائل پر قبضے کے لیے جاری لڑائی نے ہزاروں جانیں لے لیں اور لاکھوں افراد کو بے گھر کیا۔ ایشیا میں میانمر کی خانہ جنگی بدستور جاری رہی، جہاں فوجی حکومت اور مختلف مزاحمتی گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مختصر مگر شدید جنگ نے جنوبی ایشیا کو ایک بار پھر ایٹمی خطرے کی یاد دہانی کروا دی، جس میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ اگرچہ جنگ بندی ہو گئی، مگر خطے میں عدم اعتماد کی فضا برقرار ہے۔

مجموعی طور پر 2025 دنیا کے لیے ایک ایسا سال ثابت ہوا جس میں جنگوں نے انسانی ترقی، معیشت اور عالمی امن کے دعووں کو بری طرح چیلنج کیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی روش جاری رہی تو آنے والے برسوں میں انسانی المیے مزید گہرے ہو سکتے ہیں اور اس کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام انسانوں، خصوصاً مظلوم اقوام، بچوں اور خواتین کو اٹھانا پڑے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں