ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا باضابطہ تبادلہ

اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی روایات کے مطابق جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا باضابطہ تبادلہ کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ عمل طے شدہ معاہدوں اور اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت انجام پایا ۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے اس پیش رفت کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان نے متعلقہ فہرستیں بھارتی ہائی کمشنر کے حوالے کر دی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سال میں  2 مرتبہ قیدیوں اور جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین طے شدہ معاہدوں کا حصہ ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یمن کے معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے مضبوط عزم کو دہراتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ یمن کے عوام اور خطے کی طاقتیں باہمی تعاون سے دیرپا حل کی جانب پیش قدمی کریں گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بنگلادیش سے متعلق سفارتی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سابق بنگلادیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے مرحومہ کے بیٹے سے ملاقات کر کے تعزیت کی جب کہ بنگلادیش کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سے بھی ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی۔

اس کے علاوہ ترجمان نے صومالیہ اور صومالی لینڈ سے متعلق پاکستان کے واضح مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام کو پاکستان مسترد کرتا ہے اور صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس معاملے پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جس میں صومالی لینڈ کے اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کو تبوک کے گورنر اور ازبکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے ٹیلیفون کالز موصول ہوئیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ازبکستان کے صدر کے آئندہ ماہ دورہ پاکستان سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی جب کہ صومالیہ کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ جلد چین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ پاک چین وزارت خارجہ کے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شرکت کریں گے۔ افغانستان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سرحد بند ہونے کے بعد کابل میں پاکستانی سفارت خانہ وہاں موجود پاکستانی شہریوں اور طالبان حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اور اب تک 1100 سے زائد پاکستانی شہریوں نے سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں