قومی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے مجوزہ قومی کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان سے رابطہ کیا گیا، تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی مذاکراتی کمیٹی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کو باضابطہ طور پر قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن تحریک کی قیادت نے اس دعوت کو قبول کرنے سے معذرت کر لی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کو آج ہی دعوت نامہ موصول ہوا، جس کے بعد مشاورت کے بعد کانفرنس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ ذرائع نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مذاکرات کا اختیار تحریک تحفظ آئین پاکستان کو دیا ہے اور واضح ہدایات ہیں کہ تمام سیاسی مذاکرات اسی پلیٹ فارم کے تحت کیے جائیں گے، تحریک کا ماننا ہے کہ مذاکرات کسی الگ فورم کے بجائے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہی ہونے چاہئیں۔
ادھر قومی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ قومی کانفرنس 7 جنوری کو اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی، جس میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی پاکستان کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ایم کیو ایم، ق لیگ، بلوچستان عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ قومی مذاکراتی کمیٹی کا مؤقف ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد ملک کو درپیش سیاسی اور آئینی مسائل پر وسیع تر مشاورت اور اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔