پاکستان تحریکِ انصاف کے وکیل فیصل چوہدری نے نو مئی کے واقعات سے جڑے مقدمات پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا کیسز قرار دیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پاکستان تحریکِ انصاف کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ نو مئی کو ایک باقاعدہ سیاسی بیانیہ بنا دیا گیا ہے اور صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر پی ٹی آئی کا کوئی فرد مریخ پر بھی موجود ہوتا تو اسے بھی ان مقدمات میں نامزد کر دیا جاتا۔
فیصل چوہدری نے کہا کہ نو مئی سے متعلق مقدمات اب اپنی قانونی اور اخلاقی حیثیت کھو چکے ہیں، تاہم حکومت انہیں مسلسل موضوعِ بحث بنا کر اپنی ناکامیوں اور ناقص کارکردگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت شدید معاشی اور انتظامی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، مگر حکمران طبقہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دینے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے حکومت کی سمت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس نہ کوئی واضح منزل ہے اور نہ ہی عوام کو درپیش مسائل سے نمٹنے کا کوئی سنجیدہ منصوبہ۔ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بحرانوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، لیکن ان معاملات پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی مقدمات کو بنیاد بنا کر ماحول کو مزید کشیدہ کیا جا رہا ہے۔
وکیل فیصل چوہدری نے سیاسی درجہ حرارت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن، دونوں جانب تناؤ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، ایسے میں فضا کو ٹھنڈا کرنے کی ہر کوشش قابلِ ستائش ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے معاملے میں بھی قانون کے تقاضوں کے مطابق جو ریلیف بنتا ہے، وہ دیا جانا چاہیے، کوٹ لکھپت جیل سمیت مختلف جیلوں میں قید سیاسی کارکنان کی رہائی پر غور کیا جائے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو انتقامی کارروائیوں میں بدلنے کے بجائے مفاہمت اور آئینی راستے اپنانے کی ضرورت ہے، تاکہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کی راہ ہموار ہو سکے۔