تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں جاری احتجاجی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کسی بھی صورت میں کرائے کے عناصر اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گی۔
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ بدامنی کے دوران کچھ شرپسند عناصر دانستہ طور پر عوامی املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ بیرونی طاقتوں، بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کو خوش کیا جا سکے، جو لوگ بیرونی بیانات سے متاثر ہو رہے ہیں، وہ نادانستہ طور پر دشمن کے عزائم کو تقویت دے رہے ہیں۔
سپریم لیڈر نے ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، ایسے شخص کا خود کو مظاہرین کا ہمدرد ظاہر کرنا محض منافقت ہے، جو شخص ایرانی عوام کے قتل عام کا ذمہ دار رہا ہو، وہ ان کے حقوق کی بات کیسے کر سکتا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ چند کم عقل اور ناتجربہ کار افراد ٹرمپ جیسے بیانات سے متاثر ہو جاتے ہیں، حالانکہ امریکی قیادت کو پہلے اپنے ملک میں جاری مظاہروں اور اندرونی بحرانوں پر توجہ دینی چاہیے، تہران سمیت دیگر شہروں میں جلاؤ گھیراؤ اور تخریب کاری میں منظم شرپسند عناصر ملوث ہیں۔
سپریم لیڈر نے ایرانی نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے نوجوان متحد ہیں اور کسی بھی دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کرائے کے فوجیوں یا فساد پھیلانے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران میں معاشی بحران کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جو 28 دسمبر سے شروع ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے، جس سے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔