لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے واقعات اور ریڈیو پاکستان پر حملے میں براہ راست پی ٹی آئی کے لوگ ملوث تھے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی فرانزک رپورٹ سامنے آچکی ہے، جس میں پشاور ریڈیو پاکستان پر حملے کی ذمہ داری پی ٹی آئی کے افراد پر ڈالنے کا انکشاف ہوا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ اپنی غلطیوں سے انکار کرتی ہے اور یہ ایک عادت بن چکی ہے، ان کے اپنے لوگ، جنہوں نے فیس بک پر پوسٹس اپ لوڈ کیں اور ویڈیوز شیئر کیں، اب بھی اس جرم کا اعتراف کرنے سے گریز کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کے رہنما سہیل آفریدی اور دیگر افراد 9 مئی کے واقعات کو فالز فلیگ آپریشن قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس اس کے ثبوت موجود ہیں۔
وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کے ارکان کی جانب سے مزار قائد پر توہین آمیز رویے کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا لیڈر ہمیشہ سے خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرتا رہا ہے، لہٰذا ان سے اخلاقیات کی توقع نہیں کی جا سکتی، یہ لوگ سیاست کو بدنام کر رہے ہیں اور ان کا مقصد ہمیشہ لوگوں کو فساد پر اکسانا رہا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے سندھ حکومت کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے اور 8 فروری کو دوبارہ فساد کی کوشش کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کی قیادت نے قانون کو اپنے مفادات کے لیے توڑنے کی کوشش کی ہے اور کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں ملک میں کوئی بھی قابل ذکر منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، اور تمام اچھے کام مسلم لیگ ن کے دور میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں صحت اور تعلیم کی سہولتوں کی کمی پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ علامہ راجہ ناصر عباس کو کبھی خیبرپختونخوا کی حالات کی طرف توجہ نہیں گئی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان کے آئین اور قانون کی پاسداری ہر شہری کا فرض ہے اور ملک کی ترقی کے لیے سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا۔