راولپنڈی کے علاقے فیکٹری ناکا پر پولیس اور اینٹی رائٹس مینجمنٹ یونٹ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جاری دھرنا ختم کرا دیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دھرنا دینے والے افراد موقع سے ہٹ گئے اور کچھ شرکا قریبی علاقوں کی جانب روانہ ہو گئے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ آپریشن کے آغاز پر دھرنا شرکا نے فیکٹری ناکا سے گورکھپور کی سمت نقل و حرکت کی، جس پر پولیس نے پیش قدمی کرتے ہوئے علاقے کو کلیئر کیا۔
کارروائی کے بعد علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق آپریشن کے وقت پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی تینوں بہنیں چند کارکنان کے ہمراہ موقع پر موجود تھیں۔ پولیس کارروائی مکمل ہونے کے بعد دھرنا ختم ہو گیا اور راولپنڈی میں موجود کارکن مختلف سمتوں میں منتشر ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق علیمہ خان بعد ازاں اپنی گاڑی میں اسلام آباد روانہ ہو گئیں۔
دھرنے سے قبل علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے جاننا چاہتے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی طاقت انہیں اپنے بھائی کے لیے آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتی۔ انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئی نسل سیاست میں دلچسپی لے رہی ہے، جو ایک مثبت تبدیلی ہے۔
علیمہ خان نے کراچی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہر کے بارے میں پھیلائے جانے والے خوف کے تاثر کے برعکس زمینی حقائق مختلف ہیں۔ کراچی کے عوام پرامن ہیں اور نئی سیاسی سوچ کے حامل نوجوان خوف کی فضا کو توڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بعض نوجوان سیاسی کارکنان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسی قیادت ملک کے مستقبل کے لیے امید کی کرن ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھرنے کے باعث ٹریفک اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی تھی، جس کے پیش نظر کارروائی ضروری سمجھی گئی۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران کسی قسم کا تصادم یا سنگین واقعہ پیش نہیں آیا اور صورتحال کو قابو میں رکھا گیا۔