اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ کسی نے ان کی جعلی آواز بنا کر پیسے بٹورنے کی کوشش کی۔
اسپیکر نے بتایا کہ مجھ سے رابطہ کیا گیا اور کہا گیا کہ میں نے پیسے مانگے ہیں، جس پر میں نے واضح کیا کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔
اجلاس میں دیگر ارکان نے بھی اس معاملے پر بات کی۔ اعجاز الحق نے بتایا کہ ان کے پاس 19 چالان موصول ہوئے اور ایک چالان پر ایم این اے عالیہ کامران نے سوال کیا کہ یہ پیسے کس اکاؤنٹ میں گئے، کتنے اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی۔
طلال چوہدری نے جواب میں کہا کہ یہاں ایک رینٹ اے اکاؤنٹ کا نظام چل رہا ہے اور تمام متعلقہ افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ اختیار بیگ نے کہا کہ اس معاملے میں اسٹیٹ بینک کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ تحقیقات مکمل طور پر شفاف ہوں۔