لاہور کے علاقے گلشنِ راوی میں 14 سالہ طالبہ کے ساتھ ہونے والے افسوسناک اغوا اور جنسی تشدد کے واقعے کے بعد پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق واقعے کے فوری ردعمل میں وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ متاثرہ طالبہ کے گھر پہنچیں اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔
رپورٹ کے مطابق ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے متاثرہ طالبہ اور اس کے خاندان کو انصاف کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ حکومت پنجاب اس جرم کو کسی رعایت کے بغیر قانونی دائرے میں لائے گی۔
حنا پرویز بٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ 14 سالہ طالبہ کے ساتھ پیش آنے والا ظلم ناقابلِ برداشت ہے۔ ایسے سفاک مجرم کو مثال بنایا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔ بچیوں کے خلاف جرائم پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ طالبہ اور اس کے اہلِ خانہ کو مکمل قانونی اور تحفظاتی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ مجرم قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔
پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن نے واضح کیا کہ اغواء اور جنسی تشدد کرنے والا کوئی بھی فرد رعایت کے مستحق نہیں۔
حنا پرویز بٹ نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے لیے محفوظ پنجاب کا وژن وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ترجیح ہے اور حکومت ایسے جرائم کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کو جلد عدالت میں پیش کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ شہری حلقوں نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت اور پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا ہے۔