لاہور : اثاثے چھپانے کے نِت نئے طریقے دریافت، جس ملک میں سالانہ 4سے 5 ہزار ارب کی کرپشن ہوتی ہو، وہاں اَب سیاستدان قانوناً اپنے اثاثے عوام سے چھپا سکیں گے۔
اراکین پارلیمنٹ کے اثاثے چھپانے سے متعلق حکومت کی نئی قانون سازی پر مصطفی نواز کھو کھر کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جس ملک میں سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب کی کرپشن ہوتی ہو، وہاں اَب سیاستدان قانوناً اپنے اثاثے عوام سے چھپا سکیں گے۔
جہاں ضرورت اِس بات کی ہے کہ جس شخص کو بھی ٹیکس گزاروں کے پیسے سے تنخواہ ملتی ہو، یا وہ ٹیکس گزاروں کے پیسے خرچ کرنے پر دسترس رکھتا ہو، وہ شفافیت کی خاطر اپنے اثاثے منظرِ عام پر لائے، وہاں چھپانے کے نِت نئے طریقے دریافت ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 21 جنوری 2026 کو قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2025ءکی کثرت رائے سے منظوری دیدی۔
پیپلزپارٹی کی رکن شازیہ مری نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
ترمیم کے تحت ا سپیکر اور چیئرمین سینیٹ ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے مشتہر نہ کرنے کی رولنگ دے سکیں گے۔ اثاثے مخفی رکھنے کےلیے متعلقہ رکن کو باقاعدہ درخواست دینا ہوگی۔