ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاسداران انقلاب کی آبنائے ہرمز میں مشقیں؛ امریکی سینٹکام نے سخت وارننگ دیدی

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کی پاسداران انقلاب کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی غیر محفوظ یا غیر پیشہ ورانہ اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے امریکا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز میں 2 روزہ بحری مشقوں کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

سینٹکام کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایران نے اتوار سے آبنائے ہرمز میں مشقوں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ امریکی کمانڈ نے واضح کیا ہے کہ پاسداران انقلاب کو سمندر میں اشتعال انگیزی سے گریز کرنا ہوگا اور تمام سرگرمیاں محفوظ اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دی جانی چاہییں تاکہ بین الاقوامی سمندری تجارت متاثر نہ ہو۔

امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ 100 سے زائد تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔ یہ آبی راستہ خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے، اسی لیے یہاں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

سینٹکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فورسز، علاقائی اتحادیوں اور کمرشل جہازوں کے قریب کسی بھی قسم کا غیر محفوظ رویہ تصادم کے خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج اپنے اہلکاروں، بحری جہازوں اور طیاروں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں گی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اعلان سامنے آیا تھا کہ پاسداران انقلاب کی بحری فورس یکم اور 2 فروری کو آبنائے ہرمز میں مشقیں کرے گی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ممکنہ امریکی حملے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی سخت دھمکیوں نے بھی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام نے جواباً خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کا فوری اور جامع جواب دیا جائے گا، تاہم ساتھ ہی مذاکرات کے دروازے مشروط طور پر کھلے رکھنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

دوسری جانب یورپی وزرائے خارجہ کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری نے سفارتی محاذ پر ایران کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس سے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں