ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کانگو میں کان اچانک بیٹھ گئی، 200 سے زائد افراد ہلاک

افریقی ملک کانگو کے مشرقی علاقے میں ایک بڑی کان کے اچانک بیٹھ جانے کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ ربایا نامی علاقے میں پیش آیا، جہاں کولٹن نامی قیمتی معدنیات نکالنے والی کان کا اندرونی حصہ منہدم ہو گیا۔

حادثے کے وقت کان کے اندر بڑی تعداد میں مزدور کام کر رہے تھے، جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ کان کے بیٹھنے سے چند ہی لمحوں میں پورا علاقہ مٹی، پتھروں اور ملبے کی زد میں آ گیا، جس کے باعث سیکڑوں افراد دب گئے۔ مقامی حکام کے مطابق اب تک 200 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جب کہ بعض ذرائع ہلاکتوں کی تعداد 227 یا اس سے بھی زیادہ بتا رہے ہیں۔

یہ کان کولٹن نامی معدنیات کے لیے مشہور ہے، جس سے ٹینٹالم تیار کیا جاتا ہے۔ ٹینٹالم موبائل فونز، کمپیوٹرز، الیکٹرونکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجی آلات میں استعمال ہونے والا ایک اہم عنصر ہے، جس کی عالمی سطح پر مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طلب کے باعث ربایا جیسے علاقوں میں غیر رسمی اور غیر محفوظ طریقوں سے کان کنی عام ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ربایا میں کان کنی کا زیادہ تر کام مقامی مزدور انتہائی کم اجرت پر کرتے ہیں، جہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ غیر مستحکم سرنگیں، حفاظتی آلات کی کمی اور نگرانی کے فقدان نے ایسے حادثات کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

حادثے کے بعد مقامی انتظامیہ اور امدادی ٹیموں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری اور دستی آلات استعمال کیے جا رہے ہیں، تاہم دشوار گزار علاقہ اور محدود وسائل امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اب بھی متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ موجود ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں طبی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں اور سماجی تنظیموں نے اس سانحے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کان کنی کے شعبے میں حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں