امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کراچی کی مجموعی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ملک کا سب سے غیر محفوظ کراچی بن چکا ہے، جہاں آئے روز المناک واقعات پیش آ رہے ہیں اور انسانی جانوں کا مسلسل ضیاع ہو رہا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی نے گل پلازا سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کو دو ہفتے گزر جانے کے باوجود شہداء کی باقیات تاحال ان کے لواحقین کے حوالے نہیں کی جا سکیں جبکہ سرکاری طور پر یہ بتایا گیا کہ اس افسوسناک حادثے میں 87 افراد جاں بحق ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تاخیر نہ صرف انتظامی نااہلی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، صرف ایک ہی دن کے دوران شہر میں 17 سے 18 جنازے اٹھائے گئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہریوں کی جان و مال کسی بھی طرح محفوظ نہیں رہی۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ اس سانحے نے پیپلز پارٹی کی قیادت میں سندھ حکومت کی کرپشن اور بدانتظامی کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام چلنے والے تمام ادارے عملی طور پر ناکام نظر آتے ہیں اور صورتحال یہ تاثر دے رہی ہے کہ جیسے ان محکموں کے پاس کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت ہی موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فائر بریگیڈ جیسے اہم ادارے کے پاس آگ سے بچاؤ کے بنیادی حفاظتی لباس تک دستیاب نہیں، جبکہ ریسکیو 1122 کے پاس بھی جدید آلات اور ضروری وسائل کا فقدان ہے، سول ڈیفنس، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ ادارے بھی تباہ حالی کا شکار ہیں اور کسی بڑے حادثے میں مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ ایسے حالات میں میئر کراچی اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کو اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے تھا تاکہ ان کی ہی جماعت کا کوئی دوسرا فرد ذمہ داری سنبھال کر حالات کو سنبھالنے کی کوشش کرتا، اقتدار سے چمٹے رہنا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں اور مالی پیکجز کے اعلانات پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کے کاغذی پیکجز کا اعلان تو کیا جا رہا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں، دعویٰ کیا گیا ہے کہ کے ایم سی 46 ارب روپے کے ترقیاتی کام کرے گی، تاہم شہر کی موجودہ حالت اس بات کی گواہ ہے کہ یہ اعلانات صرف فائلوں اور پریس بیانات تک محدود ہیں، جبکہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔