راولپنڈی: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جمعرات کو دھرنے کا فیصلہ کیا تھا، میں نے کسی کو کوئی ہدایات نہیں دی تھیں۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے قریب صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عمران خان کی کسی بھی طرح کی خصوصی ٹریٹمنٹ کی ضرورت نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حالیہ خبروں کا مقصد اصل توجہ ہٹانا تھا اور یہ معلومات کس نے لیک کی، اس کا تعین ہونا ضروری ہے۔
علیمہ خان نے بتایا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے گزشتہ منگل کو اڈیالہ جیل آ کر علم ہوا اور وہ آج بھی جاننا چاہتی ہیں کہ یہ خبر کیسے اور کس نے لیک کی۔ انہوں نے اس عمل کو “توجہ ہٹانے کی کوشش” قرار دیا۔
انہوں نے پی ٹی آئی سینیٹر مشال یوسفزئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان ہدایات پر عمل کر رہی ہیں جو انہیں کسی اور کی جانب سے دی جاتی ہیں اور ان کا رویہ بانی پی ٹی آئی کے خیر خواہ ہونے کا ثبوت نہیں دیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ مشال یوسفزئی اور شیر افضل مروت کا نشانہ بنانا اور ان پر دباؤ ڈالنا بانی پی ٹی آئی کی جیل میں رہائی کے دوران ایک منصوبہ بند کارروائی ہے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ چاہے ہم پر تشدد کیا جائے یا کسی بھی طرح کا دباؤ ڈالا جائے، ہم اپنا مؤقف ترک نہیں کریں گے، تاہم حکام کو صرف اس ایک نکتے پر اعتراض ہے کہ سیاسی گفتگو نہ کی جائے جبکہ دیگر تمام قواعد و ضوابط کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اگر ان پر دباؤ نہیں ڈالیں گے تو یہی صورتحال ہمارے ساتھ دہرائی جائے گی، ہمیں بانی پی ٹی آئی کی رہائی چاہیے، نہ کہ خصوصی ٹریٹمنٹ۔ موجودہ حالات میں ملاقات سے گریز خوف اور دباؤ کی وجہ سے ہے۔