پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر دور میں خیبر پختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا گیا جس کے منفی اثرات صوبے نے برداشت کیے، لیکن اب وہ مزید ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ تعلیم، صحت اور اسپورٹس سمیت ہر شعبے میں صلاحیتیں موجود ہیں، اصل مسئلہ مواقع کی کمی ہے جسے دور کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے پر بار بار تجربات کے باعث بے امنی اور مسائل نے جنم لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے لیے کسی کے در پر نہیں جائیں گے، تاہم صوبے کے مفاد کے لیے ہر کسی کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہیں، چاہے ذاتی اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وفاق نے خیبر پختونخوا کے چار ہزار ارب روپے سے زائد روک رکھے ہیں اور وہ عوام کے تعاون سے یہ حق لے کر رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعات میں بے روزگار نوجوان تیار ہو رہے ہیں، مگر حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوان تعلیم کے بعد روزگار سے محروم نہ رہیں اور سب مل کر پاکستان کو ایک عظیم ملک بنائیں۔