پشاور: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر کارکن بغیر اجازت سڑکوں پر نکل آئے تو حالات قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے گا، لہٰذا معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔
پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سلمان اکرم راجا، جنید اکبر، شفیع جان اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح عمران خان کی صحت ہے۔ صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر نے کہا کہ عمران خان نے کبھی اپنی بیماری کا ذکر نہیں کیا، مگر موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عادل بزائی لیفوما کے مرض میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کا علاج بیرون ملک ہونا ضروری ہے، تاہم اس معاملے پر وفاقی وزرا سے بات کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی حالت کافی متاثر ہوئی، مگر پہلے اس پر توجہ نہیں دی گئی،ذاتی ڈاکٹر اور اہل خانہ کو اعتماد میں لیے بغیر انہیں اسپتال لے جا کر انجکشن لگایا گیا اور تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، جسے انہوں نے سنگین اور “کرمنل ایکٹ” قرار دیا، اس عمل میں جیل مینوئل کی خلاف ورزی بھی ہوئی۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ جب ماضی میں نواز شریف کی صحت کا معاملہ سامنے آیا تھا تو عدلیہ اور میڈیا نے آواز اٹھائی تھی، لیکن اب ایسا ردعمل نظر نہیں آ رہا، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا قائد تکلیف میں ہے اور پارٹی کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں جن پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آج پارٹی کی کور کمیٹی، پارلیمانی کمیٹی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کا مشترکہ اجلاس ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا، 900 دن سے زائد عرصے میں عمران خان کی جانب سے صحت کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی، اس لیے موجودہ صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے اور اس پر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر رہنماؤں نے کہا کہ انہیں مل کر پارٹی قائد کے لیے آواز اٹھانی ہوگی اور جو رپورٹ بعض سیاسی رہنماؤں کو دکھائی گئی اسے انہوں نے غلط قرار دیتے ہوئے آئندہ حکومتی مؤقف پر اعتماد نہ کرنے کا اعلان کیا۔