اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کی زمین کو نام نہاد ’ریاستی اراضی‘ قرار دینے کے اقدام پر دنیا بھر کے تقریباً 100 ممالک نے مخالفت کی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی اور علاقائی تنظیموں بشمول عرب لیگ، یورپی یونین اور او آئی سی نے اس فیصلے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی سفارتی مشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید مستحکم کرنے اور دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ 8 رکنی مسلم بلاک کے وزرائے خارجہ نے بھی مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن اور نئی آبادکاری پالیسی کی منظوری کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی کابینہ کی حالیہ منظوری کے تحت مغربی کنارے کے ایریاز اے اور بی میں سول اختیار کے دائرہ کار کو وسعت دی جا رہی ہے، جو مجموعی طور پر تقریباً 40 فیصد علاقے پر مشتمل ہیں۔
اسرائیلی تنظیم پیس ناؤ نے بھی خبردار کیا ہے کہ مجوزہ منصوبہ 1967 کے بعد پہلی مرتبہ یروشلم کی حدود کو مغربی کنارے تک بڑھانے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس توسیع کا تعلق جغرافیائی طور پر موجودہ بستی سے نہیں ہوگا بلکہ اسے براہِ راست یروشلم کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔
اُدھر مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے سینئر امام شیخ محمد العباسی کو احاطے میں داخلے سے عارضی طور پر روکنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت رمضان سے قبل سامنے آئی ہے اور خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بھڑکا سکتی ہے۔