ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

غزہ میں تباہی کے ملبے اور یادوں کے سائے میں ماہِ صیام کا آغاز، فلسطینیوں کے حوصلے بلند

مقبوضہ بیت المقدس: جنگ اور تباہی کے طویل سلسلے کے باوجود غزہ میں رمضان المبارک کا استقبال ایک بار پھر عزم اور حوصلے کے ساتھ کیا گیا ہے۔

کئی سال سے اسرائیلی حملوں نے جہاں شہر کی عمارتوں، گلیوں اور بازاروں کو کھنڈر میں بدل دیا ہے، وہیں بے شمار خاندان اپنے پیاروں کی جدائی کا دکھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود جیسے ہی رمضان کا چاند نمودار ہوا، فضا میں ایک روحانی کیفیت محسوس کی گئی اور لوگوں کے چہروں پر تھکن کے باوجود امید کی جھلک نمایاں دکھائی دی۔

پناہ گزین کیمپوں میں قائم عارضی خیمے، جو موسم کی سختیوں کا بمشکل مقابلہ کر پاتے ہیں، ان دنوں سادہ سجاوٹ سے آراستہ کیے جا رہے ہیں۔

بچے رنگ برنگی تصویریں بنا کر کپڑے کی دیواروں پر آویزاں کر رہے ہیں، جبکہ نوجوان خصوصی لالٹینوں اور روشنیوں سے اندھیرے ماحول کو منور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی طرح اذان اور تکبیر کی صدائیں ملبے کے ڈھیروں کے درمیان گونجتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ روحانی وابستگی نے مادی تباہی کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔

غزہ کے باسیوں کے لیے یہ رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ صبر، یکجہتی اور اجتماعی استقامت کی علامت بھی ہے۔ افطار کے اوقات میں محدود وسائل کے باوجود لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بانٹتے ہیں اور مساجد یا کھلے میدانوں میں اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کئی خاندان ایسے ہیں جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے، مگر ان کا عزم کمزور نہیں ہوا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالات بدستور غیر یقینی ہیں اور بنیادی سہولیات کی کمی شدت اختیار کر چکی ہے، تاہم رمضان انہیں نئی توانائی فراہم کرتا ہے۔

عالمی برادری کی نظریں اس وقت غزہ کی انسانی صورتحال پر مرکوز ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے شہری اپنے ایمان اور باہمی تعاون کے ذریعے زندگی کی شمع روشن رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں