اسلام آباد:حکومت نے درآمد شدہ موبائل فونز پر 20 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگانے پر غور شروع کردیا۔
وفاقی حکومت ایک نئی پالیسی کے تحت درآمدی موبائل فونز پر 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور ری فربشڈ فونز کی برآمدات میں 400 ملین ڈالرز تک کا حصول ہے۔
مجوزہ اقدامات انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی طرف سے حتمی شکل دیے گئے موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ فریم ورک کا حصہ ہیں، جسے منظوری کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کیا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ حکام موبائل فونز کے مکمل طور پر تعمیر شدہ یونٹس (سی بی یو) کی درآمد پر 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ اقدام ٹیکس کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرے گا، فی الحال مکمل طور پر اسمبل شدہ ہینڈ سیٹس کی درآمد پر کوئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نہیں لگائی جاتی ہے۔
منصوبے کے تحت لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپس اور ٹیبلیٹس کے مکمل طور پر تعمیر شدہ یونٹس پر بھی 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جائے گی جبکہ مکمل طور پر بند یونٹس پر ڈیوٹی 5 فیصد سے شروع ہو کر بتدریج 10 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
معلوم ہوا ہے کہ فریم ورک میں موبائل فونز اور الیکٹرانک آلات کی مقامی مینوفیکچرنگ کو سپورٹ کرنے کے لیے 56 ارب روپے کے ٹیکنالوجی سرمایہ کاری فنڈ کا قیام بھی شامل ہے۔
پالیسی کا ایک اہم جزو تجدید شدہ (ری فربشڈ) موبائل فونز اور لیپ ٹاپس کو دوبارہ ایکسپورٹ کرنا ہے جس میں سالانہ 30 سے 40 ملین آلات کی برآمد متوقع ہے جس سے برآمدی آمدنی میں 300 ملین سے 400 ملین ڈالرز کے درمیان اضافے کا امکان ہے۔