ممبئی:بھارتی ریاست مہاراشٹر کی حکومت نے مسلمانوں کے لیے تعلیم،ملازمت کا 5فیصد کوٹہ ختم کردیا ہے۔
مہاراشٹر حکومت نے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم طبقے کو دیے گئے 5 فیصد ریزرویشن سے متعلق تمام باقی ماندہ انتظامی کارروائیوں کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔
ریاستی حکومت کے تازہ حکم کے مطابق اب اس زمرے کے تحت کسی بھی طرح کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ کوٹہ پہلے ہی عدالتی عمل کے بعد غیر موثر ہو چکا تھا تاہم اس سے متعلق چند سرکاری احکامات اور انتظامی عمل درآمد کو تکنیکی طور پر برقرار سمجھا جا رہا تھا، اب دیویندر فڈنویس کی قیادت والی حکومت نے انہیں بھی منسوخ کر دیا ہے۔
سرکاری حکم نامے کے مطابق اب ریاست کے کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں 5 فیصد مسلم ریزرویشن کی بنیاد پر داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ اس زمرے کے تحت نئے ذات سرٹیفکیٹ یا ویلیڈیٹی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ پہلے جاری کیے گئے تمام سرکاری سرکلر اور احکامات کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق 2014 کے فیصلے کی بنیاد پر زیر التوا یا جاری کوئی بھی عمل اب آگے نہیں بڑھے گا۔
اقلیتی امور کے محکمے میں بھی انتظامی سطح پر تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ اس فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
مہاراشٹر میں مسلم برادری کو 5 فیصد کوٹہ جولائی 2014 میں کانگریس،این سی پی اتحاد کی حکومت نے دیا تھا۔
اس وقت ریاست کے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان تھے۔ حکومت نے سماجی انصاف محکمہ کے ذریعے ایک آرڈیننس جاری کرتے ہوئے مسلموں کو ایس ای بی سی اے (SEBC-A) زمرے میں شامل کیا تھا۔
یہ کوٹہ تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں دونوں میں نافذ کیا گیا تھا، جس کے بعد ریاست میں مجموعی ریزرویشن کی شرح تقریباً 73 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
اس تجویز کو اس وقت کی کابینہ میں پیش کیا گیا تھا اور اسے مراٹھا ریزرویشن کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔
اس آرڈیننس کو بعد میں میں چیلنج کیا گیا تھا۔ 14 نومبر 2014 کو عدالت عالیہ نے اس پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔