ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت صوبے پرقابض ،فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے،خالد مقبول

کراچی : خالد مقبول صدیقی نے سندھ اسمبلی میں منظور کی گئی حالیہ قرارداد کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قرارداد کو خوف کے ماحول میں منظور کیا گیا۔ کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایسی روش اپنائی جا رہی ہے جیسے وہ خود کو ملکی آئین سے بالاتر سمجھتا ہو۔

انہوں نے سیاسی صورتحال کو ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسا نظام ہے جس میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے والے قید میں ہوں اور کم نشستیں لینے والے اقتدار میں بیٹھے ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت سندھ پر قابض ہے۔

ایم کیو ایم کے سربراہ نے کہا کہ مسائل کا حل تصادم نہیں بلکہ بات چیت میں ہے اور ان کی جماعت پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کے ہوتے ہوئے ’سندھو دیش‘ کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ ملک کا سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے لیکن شہری علاقوں کے ساتھ دہائیوں سے ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل آئینی طور پر ممکن ہے، جبکہ آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا لازمی ہے، تاہم صوبائی حکومت اس پر عمل نہیں کر رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 6 کے تحت عوامی رائے شماری بھی کرائی جا سکتی ہے، اور اگر عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہوا تو توہینِ عدالت کی درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔

  • ویب ڈیسک
  • فاروق اعظم صدیقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں