کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے کہا کہ جس انداز میں تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، اس پر وہ فی الحال اپنی رائے محفوظ رکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ عدالت کی معاونت کے لیے پیش ہوئے ہیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے روبرو ایسی دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں جو گل پلازہ کی عمارت کی تعمیر میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران کے خلاف غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے مقدمات بھی درج ہوئے تھے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان مقدمات کا کیا انجام ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 19 فروری کو ای میل کے ذریعے تمام تفصیلات کمیشن کو ارسال کر دی گئی تھیں، مگر انہیں بتایا گیا کہ درخواست مطلوبہ تقاضوں کے مطابق نہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کمیشن کم از کم ایک گھنٹہ ان کے وکیل اور آدھا گھنٹہ انہیں ذاتی طور پر سننے کے لیے مختص کرے۔
فاروق ستار نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 18 برسوں سے صوبے میں بدعنوان حکمرانی جاری ہے اور ان کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم بطور فریق اس معاملے میں شامل ہو سکتی ہے اور باقاعدہ درخواست بھی دی گئی، لیکن انہیں مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سانحے کی تحقیقات کا مطالبہ سب سے پہلے ان کی جماعت نے کیا تھا اور جلد اس موضوع پر تفصیلی پریس کانفرنس کی جائے گی۔