ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات، بچوں کے بیانات میں اہم انکشافات

کراچی: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کے روبرو ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ پیش ہوئے اور واقعے سے متعلق تفصیلی بیان ریکارڈ کرایا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے جس کے دوران آگ بھڑک اٹھی۔ بچوں کو بلا کر ان کے بیانات قلمبند کیے گئے جو انکوائری کا حصہ ہیں۔

اعجاز شیخ کے مطابق جب وہ موقع پر پہنچے تو مین روڈ کی جانب آگ شدت اختیار کر چکی تھی جبکہ ڈی سی آفس والی سمت پر آگ نسبتاً کم تھی اور لوگ سامان نکال رہے تھے۔

پولیس نے 3 اطراف سے نفری تعینات کر کے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی، تاہم دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے تینوں اطراف کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ آگ پکڑنے والی اشیا جیسے بلینکٹ، کپڑے، ٹشو سے بنے پھول اور اسپرے وغیرہ موجود تھے جس سے آگ تیزی سے پھیلی۔

کمیشن نے بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کی اور سوال اٹھایا کہ آیا آگ سے قبل دھواں پھیلا تھا۔ ایس ایس پی کے مطابق پلازہ کے 17 دروازوں میں سے صرف 4 کھلے تھے اور دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کی ذمہ داری تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عام دنوں میں رات 10 بجے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، تاہم رمضان یا عید کے باعث اوقات کار بڑھائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی، تاہم سڑکوں کی محدود چوڑائی اور دیگر عوامل بھی زیر غور ہیں۔ کمیشن تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ذمہ داریوں کا تعین کیا جا سکے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں