کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کا آغاز غیر معمولی مندی کے ساتھ ہوا جس نے سرمایہ کاروں کو ہلا کر رکھ دیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹ کھلتے ہی فروخت کا شدید دباؤ دیکھنے میں آیا اور چند ہی لمحوں میں 100 انڈیکس میں تقریباً 15 ہزار پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ملکی تاریخ کی بڑی مندیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اس اچانک گراوٹ نے حصص بازار میں بے یقینی کی فضا پیدا کر دی اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد تذبذب کا شکار ہو گئی۔
ابتدائی اوقات میں ہی کے ایس ای 100 انڈیکس تنزلی کے بعد ایک لاکھ 53 ہزار 361 پوائنٹس کی سطح تک جا پہنچا۔ اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس بھی 10 فیصد سے زائد گر گیا، جس کے باعث مارکیٹ میں خودکار سرکٹ بریکر میکانزم فعال ہو گیا۔
قواعد کے مطابق اگر کے ایس ای 30 انڈیکس مسلسل پانچ منٹ تک 5 فیصد کی حد عبور کر جائے تو ٹریڈنگ عارضی طور پر روک دی جاتی ہے، اور آج یہی صورتحال دیکھنے میں آئی۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے پیش نظر کاروبار کو ایک گھنٹے کے لیے معطل کیا گیا ہے۔ اس دوران سرمایہ کاروں کو صورتحال کا جائزہ لینے اور منڈی کے استحکام کے لیے وقت فراہم کیا گیا۔ اعلان کے مطابق ٹریڈنگ دوبارہ صبح 10 بج کر 22 منٹ پر بحال کی جائے گی۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سطح کی کمی عام طور پر غیر یقینی معاشی حالات، سیاسی بے چینی یا عالمی منڈیوں میں دباؤ کے اثرات کے باعث دیکھنے میں آتی ہے۔
شدید مندی کے اس رجحان نے نہ صرف مقامی سرمایہ کاروں بلکہ بیرونی سرمایہ کاری پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر مارکیٹ میں اعتماد بحال نہ ہوا تو اس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ دوسری جانب اسٹاک ایکسچینج حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مارکیٹ کے استحکام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔