سری نگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما نے نیشنل کانفرنس (این سی) کی زیرِ قیادت حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں مبینہ طور پر 6.83 فیصد اضافے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ دھوکہ قرار دیا ہے۔
سنیل شرما نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران ہر گھر کو 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے واضح وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، تاہم انتخابات کے تقریباً دو سال بعد بھی یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس اب بجلی کے صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’این سی حکومت نے ہر گھر کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس وعدے کو پورا کرنے کے بجائے عوام کو بجلی کے نرخوں میں اضافے کا سامنا ہے۔ یہ راحت نہیں بلکہ حکومت پر عوام کی جانب سے کیے گئے اعتماد کے ساتھ دھوکہ ہے۔‘‘
قائد حزبِ اختلاف نے کہا کہ 6.83 فیصد بجلی ٹیرف میں اضافہ، جو یکم ستمبر سے نافذ ہونے کی توقع ہے، مہنگائی اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات کے باعث پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار عام خاندانوں پر مزید بوجھ ڈالے گا۔سنیل شرما نے کہا کہ یہ صورتحال نیشنل کانفرنس کے انتخابی وعدوں اور حکومت میں اس کی کارکردگی کے درمیان واضح تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’انتخابات سے پہلے وعدہ 200 یونٹ مفت بجلی کا تھا، لیکن انتخابات کے بعد حقیقت میں بجلی کے زیادہ بل عوام کے سامنے ہیں۔ حکومت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیوں نہیں کیے گئے۔‘‘قائد حزبِ اختلاف نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت سے نیشنل کانفرنس کے منشور میں کیے گئے 200 یونٹ مفت بجلی کی فراہمی کے وعدے پر بھی سوال اٹھایا۔
سنیل شرما نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے عوام نعروں کے بجائے جواب چاہتے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کو بتانا ہوگا کہ 200 یونٹ مفت بجلی کا وعدہ کہاں ہے اور وعدہ پورا کرنے کے بجائے صارفین پر بجلی کے نرخوں میں اضافے کا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔‘‘سنیل شرما نے خبردار کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل کو مسلسل اجاگر کرتی رہے گی اور 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں پر این سی کی زیرِ قیادت حکومت کو جوابدہ بنائے گی۔