ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چینی روبوٹ نے 100 میٹر دوڑ میں یوسین بولٹ کا ریکارڈ توڑ دیا

بیجنگ: چین میں ٹیکنالوجی کی دنیا سے حیران کن خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر دوڑ میں انسانی عالمی ریکارڈ سے بھی بہتر وقت نکال لیا۔

بیجنگ کے ’’آئس ربن‘‘ اسٹیڈیم میں ہفتے کی شام ہونے والے دوسرے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے ابتدائی مقابلے میں تیان ژو ٹیم کے تیار کردہ ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ صرف 9.39 سیکنڈ میں طے کیا۔ اس طرح روبوٹ نے جمیکا کے عظیم ایتھلیٹ یوسین بولٹ کا 9.58 سیکنڈ کا عالمی ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا۔

ریس کے آغاز پر تین ہیومنائیڈ روبوٹس نے تیزی سے دوڑنا شروع کیا۔ تیان ژو اور ونڈ فائر لائٹننگ ٹیموں کے روبوٹس ابتدا ہی سے ایک دوسرے کے قریب رہے، ریس آگے بڑھنے کے ساتھ روبوٹس کی قدموں کی رفتار میں اضافہ ہوا اور ان کے بازوؤں کی حرکت بھی تیز ہوگئی۔

بالآخر تیان ژو ٹیم کا روبوٹ پہلے نمبر پر آیا اور 9.39 سیکنڈ کا وقت ریکارڈ کیا، یہ گزشتہ سال کے اسی مقابلے کے بہترین وقت 21.50 سیکنڈ کے مقابلے میں غیر معمولی بہتری ہے۔

رپورٹس کے مطابق روبوٹ کی اس رفتار نے ہیومنائیڈ روبوٹ ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت کی نشاندہی کی ہے جبکہ اب شائقین کی نظریں فائنل پر ہیں جہاں روبوٹس کے اس سے بھی تیز دوڑنے کی توقع کی جارہی ہے۔

یوسین بولٹ کون ہیں؟

جمیکا کے عظیم ایتھلیٹ یوسین بولٹ کو دنیا کے تیز ترین انسان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے 16 اگست 2009 کو برلن میں عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران 100 میٹر کی دوڑ 9.58 سیکنڈ میں مکمل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، سو میٹر دوڑ میں یہ ریکارڈ اب بھی قائم ہے اسے اب تک کوئی نہیں توڑ سکا۔

ورلڈ اتھلیٹکس کی رپورٹ کے مطابق یوسین بولٹ نے 2009 میں اسی چیمپئن شپ میں 200 میٹر کا عالمی ریکارڈ بھی 19.19 سیکنڈ قائم کیا۔ اس سے قبل وہ 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں 100 میٹر کا عالمی ریکارڈ 9.69 سیکنڈ تک لے گئے تھے۔

معروف اتھلیٹ یوسین بولٹ: فائل فوٹو رائٹرز

2012 کے لندن اولمپکس میں بولٹ نے 100 میٹر کی دوڑ 9.63 سیکنڈ میں جیت کر اولمپک ریکارڈ قائم کیا، جبکہ 2008، 2012 اور 2016 کے اولمپکس میں وہ 100 میٹر کے چیمپئن رہے۔ ورلڈ ایتھلیٹکس کے مطابق بولٹ 8 مرتبہ اولمپک چیمپئن اور 11 مرتبہ عالمی چیمپئن رہ چکے ہیں۔

یوں 9.39 سیکنڈ کی روبوٹک دوڑ نے ٹیکنالوجی اور کھیل کے درمیان ایک نیا اور دلچسپ سنگِ میل قائم کیا ہے تاہم یہ واضح رہے کہ روبوٹ کا 9.39 سیکنڈ کا وقت انسانی ایتھلیٹکس کا عالمی ریکارڈ نہیں بلکہ انسانی ریکارڈ کے ساتھ ایک تکنیکی موازنہ ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں