نئی دہلی/سائنسدانوں نے اسمارٹ فون پر مبنی ایک جدید پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو الزائمر بیماری (Alzheimer’s Disease) کی تشخیص میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ایک خاص فلوروسینس ریسپانسیو مالیکیول کو بطور پروب استعمال کرتی ہے، جس کے ذریعے الزائمر کے اہم بائیومارکر ’’ایمیلوئڈ بیٹا‘‘ (Amyloid-β) کی کم لاگت اور نسبتاً آسان طریقے سے نشاندہی کی جا سکتی ہے۔
اس پروب کو ’’TZ-48‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جب یہ ایمیلوئڈ بیٹا کے ساتھ تعامل کرتا ہے تو اس کی فلوروسینس کی شدت میں تبدیلی واقع ہوتی ہے، جسے ایک مخصوص اسمارٹ فون ایپلی کیشن کے ذریعے ریکارڈ اور مقدار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تیز رفتار اور صارف دوست تشخیصی طریقہ سامنے آتا ہے، جسے الزائمر کی اسکریننگ اور بیماری کے مختلف مراحل کی شناخت میں استعمال کیے جانے کے امکانات ہیں۔
الزائمر ایک ترقی پذیر نیوروڈیجنریٹو بیماری ہے، جس میں یادداشت کی کمزوری، ذہنی صلاحیتوں میں کمی اور رویے میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بیماری کی بنیادی وجوہات میں ایمیلوئڈ بیٹا (Aβ) کا غلط انداز میں فولڈ ہونا اور جمع ہونا شامل ہے۔ یہ پروٹین فائبرز کی شکل اختیار کرکے دماغ میں بیرونی سطح پر تختیاں (Plaques) بناتا ہے، جو اعصابی خلیوں کو نقصان پہنچانے والے عمل کا سبب بنتی ہیں اور بالآخر دماغی خلیوں کے درمیان رابطے اور نیوروڈیجنریشن کو متاثر کرتی ہیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ایجنگ-الزائمرز ایسوسی ایشن (NIA-AA) کے فریم ورک کے مطابق ایمیلوئڈ بیٹا، ٹاؤ (Tau) اور نیوروڈیجنریشن الزائمر کی تشخیص کے اہم بائیومارکرز ہیں۔ ان میں ایمیلوئڈ بیٹا بیماری کے ابتدائی مرحلے میں ظاہر ہونے والا اور الزائمر سے زیادہ مخصوص بائیومارکر سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ PET اسکین اور MRI جیسی ٹیکنالوجیز تشخیص میں اہم معلومات فراہم کرتی ہیں، تاہم ان کی زیادہ لاگت، خصوصی بنیادی ڈھانچے، ماہرین کی ضرورت اور محدود دستیابی کے باعث انہیں بڑے پیمانے پر استعمال کرنا مشکل ہے۔ خون کے ذریعے ایمیلوئڈ بیٹا اور ٹاؤ پروٹین کی جانچ بھی ایک امید افزا متبادل ہے، تاہم یہ طریقے نسبتاً مہنگے اور پیچیدہ ہیں۔
اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے جواہر لال نہرو سینٹر فار ایڈوانسڈ سائنٹفک ریسرچ (JNCASR) کے سائنسدانوں نے ایک جدید فلوروسینس لائف ٹائم ریسپانسیو پروب تیار کیا ہے۔ JNCASR محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت کام کرنے والا ایک خودمختار ادارہ ہے۔
تحقیق کے مطابق TZ-48 ایمیلوئڈ بیٹا فائبرز کی انتہائی حساس اور مخصوص شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ’’ٹرن آن فلوروسینس‘‘ اور مختلف فلوروسینس لائف ٹائم سگنیچرز کے ذریعے ایمیلوئڈ بیٹا کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ تحقیق جریدے ’’ACS Chemical Neuroscience‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔ TZ-48 دماغ کے حفاظتی حصار (Blood-Brain Barrier) کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور الزائمر سے متاثرہ ٹرانس جینک چوہوں کے دماغ میں ایمیلوئڈ بیٹا پلاکس کی مؤثر لیبلنگ بھی کر سکتا ہے۔ اسے کنفوکل لیزر اسکیننگ مائیکروسکوپی (CLSM) اور فلوروسینس لائف ٹائم امیجنگ مائیکروسکوپی (FLIM) کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ TZ-48 دماغی ریڑھ کی ہڈی کے سیال (CSF) اور خون کے سیرم میں موجود ایمیلوئڈ بیٹا کی حساس نشاندہی کر سکتا ہے اور الزائمر سے متاثرہ چوہوں کو صحت مند چوہوں سے الگ کرنے میں مدد دیتا ہے۔
طبی استعمال کے امکانات کو مزید بڑھانے کے لیے سائنسدانوں کی ٹیم نے ’’ADxFluor‘‘ نامی اسمارٹ فون سے مربوط پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ADxFluor، TZ-48 کی فلوروسینس تبدیلیوں کو استعمال کرتے ہوئے خون کے سیرم میں ایمیلوئڈ بیٹا کی مقدار کی تیز اور غیر جانب دار پیمائش کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام دماغ کی امیجنگ، جسمانی سیالوں میں بائیومارکر کی جانچ اور اسمارٹ فون کے ذریعے ایمیلوئڈ بیٹا کی مقدار معلوم کرنے کی صلاحیت کو یکجا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق TZ-48 اور ADxFluor کا امتزاج مستقبل میں الزائمر سمیت دیگر نیوروڈیجنریٹو بیماریوں کی تشخیص کے لیے کم لاگت، قابلِ نقل و حمل اور استعمال میں آسان پوائنٹ آف کیئر تشخیصی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔یہ ٹیکنالوجی ابتدائی مرحلے میں الزائمر کی تشخیص کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے کی سمت ایک اہم سائنسی اور تکنیکی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔