اتر پردیش کیڈر کی معروف آئی اے ایس افسر دیویا متل نے اپنے عہدے سے اچانک استعفیٰ دے دیا۔ اس پورے معاملے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے، دیویا متل نے خود وضاحت کی ہے کہ ان کا یہ اقدام کسی دباؤ یا ٹرگر لمحے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا گیا تھا۔
نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق انہوں نے کہا، "آئی اے ایس کی نوکری میری زندگی کا صرف ایک باب ہے، میری پوری زندگی نہیں۔” دیویا متل نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ راستہ اپنی ترجیحات، مفادات اور خاندان کو مدنظر رکھتے ہوئے چنا ہے۔ مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں انہوں نے اشارہ کیا کہ وہ لکھنے، پڑھانے اور سماجی خدمت کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں اور ایک خاندان ہے جس کی دیکھ بھال کرنا ہے، اور وہ اپنے پرانے شوق کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ تاہم، اس کے اگلے قدم کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
دیویا متل کے اس فیصلے کے بعد ان کے شوہر سابق آئی اے ایس افسر گگندیپ سنگھ ڈھلوں بھی سرخیوں میں آگئے ہیں۔ گگندیپ نے بھی 2022 میں وزارت تجارت اور صنعت میں جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دونوں کا ایک دلچسپ سفر رہا ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ایم بنگلور میں تعلیم حاصل کرنے والے گگندیپ اور دیویا دونوں نے پہلے لندن میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے لاکھوں مالیت کے سیلری پیکج کے ساتھ کام کیا ۔ دیویا نے سٹی گروپ میں جبکہ گگندیپ نےجے پی مورگن میں کام کیا۔
اپنے غیر ملکی کیریئر سے مایوس ہوکر وہ ہندوستان واپس آگئے اور سیول سروس کا انتخاب کیا۔ جبکہ دیویا نے آئی اے ایس آفیسر بننے کی اپنی دوسری کوشش (2012) میں 68 واں رینک حاصل کیا، ان کے شوہر اپنی پہلی کوشش میں کامیاب رہے۔ دیویا متل یوپی کے مرزا پور، سنت کبیر نگر اور دیوریا جیسے اضلاع میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) کے طور پر اپنے حساس کام کرنے کے انداز کے لیے مشہور ہیں۔