ایران کی جانب سے میزائل حملے کے بعد اردن میں موجود امریکی دفاعی نظام کو فعال کردیا گیا، جس کا مقصد ایرانی میزائلوں کو روکنا تھا۔
فوٹو سوشل میڈیا(ایکس)
ایران نے رات گئے اردن میں امریکی افواج کے استعمال کردہ الازرق ایئر بیس کو مبینہ طور پر بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایران کی جانب سے تقریباً 20 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں بعض کلسٹر وار ہیڈز سے لیس ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
حملے کے دوران سامنے آنے والی ویڈیوز میں پیٹریاٹ دفاعی نظام کی جانب سے متعدد انٹرسیپٹرز فائر کیے جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اوپن سورس انٹیلی جنس کے بعض تخمینوں کے مطابق 60 سے زائد پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز استعمال کیے گئے، جبکہ کچھ اندازوں میں یہ تعداد 100 سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کے لیے بعض صورتوں میں 2 سے 4 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز داغے جا سکتے ہیں، جبکہ کلسٹر وار ہیڈز کی موجودگی میں دفاعی نظام پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
پی اے سی-3 ایم ایس ای انٹرسیپٹر کی فی یونٹ قیمت کئی ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس حساب سے ایک ہی رات میں درجنوں انٹرسیپٹرز کے استعمال پر ہونے والا ممکنہ دفاعی خرچ کروڑوں ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا استعمال اسی رفتار سے جاری رہا تو امریکی دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ موجودہ پیداواری رفتار اس اضافی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔