سری نگر/جموں و کشمیر بھر کے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرن ڈاکٹروں نے حکومت کی جانب سے اسٹائپنڈ کے مسئلے کو ایک ماہ کے اندر حل کرنے کی تحریری یقین دہانی کے بعد منگل کو اپنی ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ فیصلہ آج دوپہر صحت و طبی تعلیم کی وزیر سکینہ مسعود ایتو اور احتجاج کرنے والے انٹرن ڈاکٹروں کے ایک وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
ملاقات کے منٹس کے مطابق حکومت نے انٹرن ڈاکٹروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اسٹائپنڈ میں اضافے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر ایک ماہ کے اندر معاملہ حل کیا جائے گا۔
انٹرن ڈاکٹروں نے مریضوں کی دیکھ بھال کے وسیع تر مفاد کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہڑتال ختم کرکے دوبارہ اپنی ڈیوٹیاں انجام دینے پر اتفاق کیا ہے۔
واضح رہے کہ احتجاج کرنے والے انٹرن ڈاکٹر مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہے تھے کہ محض زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں ہیں۔ وہ حکومت سے اسٹائپنڈ میں اضافے کے مطالبے پر باضابطہ اور مقررہ مدت پر مبنی تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
انٹرن ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ ان کا ماہانہ اسٹائپنڈ بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ اسٹائپنڈ ان کے کام کے بوجھ، ذمہ داریوں اور مریضوں کی دیکھ بھال میں ان کے کردار کے تناسب سے مناسب نہیں ہے۔
اسٹائپنڈ کے مسئلے کے حل کے مطالبے کو لے کر احتجاج کرنے والے انٹرن ڈاکٹروں کے ایک تازہ وفد نے آج صحت و طبی تعلیم کی وزیر سکینہ مسعود ایتو سے ملاقات کی، جس کے بعد حکومت کی تحریری یقین دہانی پر ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔