یمن میں 2022 کی اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے نسبتاً پُرسکون ماحول کو دوبارہ کشیدگی سے خطرہ لاحق ہے
سعودی عرب پر حوثی حملے ناقابل قبول،پاکستان کا سلامتی کونسل میں مؤقف
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے یمن کی صورتحال پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے باعث یمن میں دوبارہ وسیع پیمانے پر کشیدگی پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے گریز کیا جائے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔
انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے بحیرہ احمر، خلیج عدن اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیاں آزادانہ بحری نقل و حرکت اور عالمی تجارت کے لیے خطرات پیدا کرتی ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یمن میں 2022 کی اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے نسبتاً پُرسکون ماحول کو دوبارہ کشیدگی سے خطرہ لاحق ہے۔ ان کے مطابق مزید فوجی کارروائیاں یمنی عوام کی مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہیں اور سفارتی حل کے امکانات کو محدود کرسکتی ہیں۔
انہوں نے یمن میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی اور یمن کی قیادت میں جامع سیاسی عمل کی بحالی کی حمایت کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ اختلافات کا حل مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جائے۔
اقوام متحدہ کے مطابق باب المندب اور یمن کے مغربی ساحل کے اطراف حالیہ دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہوئی ہے، جبکہ عالمی ادارے نے شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی پر زور دیا ہے۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یمن کے بحران کا پائیدار حل جامع سیاسی تصفیے کے ذریعے ہی ممکن ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔