ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، ینبع بندرگاہ پر چند روز کا ذخیرہ باقی
سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور پائپ لائن پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
سعودی عرب نے اہم آئل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد یورپ کے لیے تیل کی کچھ سپلائی منسوخ کردی ہے، جس کے باعث بڑے خریداروں نے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کردی ہے جبکہ یورپی مارکیٹ میں خام تیل کے کارگو کی قیمت 122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یورپی صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر میں لوڈ ہونے والے خام تیل کے کچھ کارگو منسوخ کیے جائیں گے جبکہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ بھی معطل کردی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ڈرون حملوں میں سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچا۔ پائپ لائن کی بندش سے عالمی سطح پر تیل کی 4 فیصد سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اگر سعودی عرب نے بحیرہ احمر کی طرف جانے والی اپنی تیل پائپ لائن کو چند دنوں میں دوبارہ بحال نہ کیا تو اس کے پاس برآمدات کے لیے تیل کا ذخیرہ ختم ہو جائے گا کیونکہ ینبع میں صرف 5 سے 7 دن کا تیل ذخیرہ موجود ہے۔
اسپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بھی سہارا ملا ہے۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے تقریبا 108 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے جبکہ یورپ کی فزیکل مارکیٹ میں قیمتیں اس سے بھی زیادہ رہیں اور اہم بینچ مارک ڈیٹڈ برینٹ تقریبا 122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ سعودی سرکاری آئل کمپنی آرامکو نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے، جبکہ یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ یورپ کے لیے کتنے تیل کے کارگو منسوخ کیے جائیں گے اور ینبع سے تیل کی لوڈنگ کتنے عرصے تک معطل رہے گی۔