ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’سہ لسانی پالیسی کو آئندہ سال سے نافذ کیا جانا چاہیے‘، سپریم کورٹ نے سی بی ایس ای کو دیا مشورہ

سپریم کورٹ نے ’سی بی ایس ای‘ کی سہ لسانی پالیسی اچانک نافذ کرنے پر ایک بار پھر سوال اٹھایا ہے۔ عدالت نے جمعرات کو کہا کہ چھٹی جماعت کے بچوں کے لیے تیسری زبان اگلے سال سے نافذ کی جانی چاہیے۔ اس سے بچوں کو ذہنی طور پر تیار ہونے کا وقت ملے گا۔ اس مشورہ کے بعد سی بی ایس ای نے غور کرنے کے لیے وقت طلب کیا ہے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی جانب سے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی اور وی موہنا کی بنچ کو بتایا کہ وہ اس تجویز پر غور کریں گے۔

اس درمیان جسٹس باگچی نے کہا کہ اگر ابھی چھٹی جماعت میں پڑھ رہے طلبا رواں سال سے ہی 3 زبانیں پڑھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل مرکز اور سی بی ایس ای نے بنچ کو بتایا تھا کہ وہ چھٹی جماعت کے طلبا کے لیے 3 زبانیں (جن میں 2 ہندوستانی زبانیں شامل ہوں) پڑھنے کی پالیسی نافذ کرنے کی تجاویز پر کام کر رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 27 مئی کو سپریم کورٹ اس پالیسی کو چیلنج کرنے والی عرضی پر غور کرنے کے لیے رضامند ہو گیا تھا اور مرکز، سی بی ایس ای اور این سی ای آر ٹی کو نوٹس جاری کر کے ان سے جواب طلب کیا تھا۔ سی بی ایس ای کے ایک سرکلر کے مطابق یکم جولائی سے نویں جماعت کے طلبا کے لیے 3 زبانیں (جن میں کم از کم 2 ہندوستانی زبانیں شامل ہوں) پڑھنا لازمی کر دیا گیا ہے۔ سی بی ایس ای نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’’نویں جماعت کا ہر طالب علم 3 زبانیں پڑھے گا۔ ان 3 زبانوں میں سے کم از کم 2 ہندوستانی زبانیں ہوں گی۔

ہندوستانی زبانوں میں ہندی، سنسکرت، تمل، تیلگو، کنڑ، ملیالم، مراٹھی، بنگالی، پنجابی، گجراتی، اوڈیا، آسامی وغیرہ شامل ہیں۔ غیر ہندوستانی زبانوں میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن، عربی، ہسپانوی وغیرہ شامل ہیں۔ قابل ذکر یہ ہے کہ جہاں چھٹی جماعت کے لیے 2 ہندوستانی زبانیں لازمی کر دی گئیں، وہیں ساتویں، آٹھویں اور نویں جماعت کے ان طلبا کے لیے کچھ رعایت دی گئی ہے جو 2 غیر ہندوستانی زبانیں پڑھ رہے تھے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں