ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’کیا کھانا ہے، یہ طے کرنا فرد کا حق، مسلط کرنا درست نہیں‘، برکس مینو پر شیوسینا یو بی ٹی کا مرکز پر نشانہ

نئی دہلی میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس میں غیر ملکی مہمانوں کو صرف ’ویج‘ کھانا پیش کیے جانے پر سیاست شروع ہو گئی ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) نے جمعرات (17 ستمبر) کو مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی مہمانوں پر کھانے کی پسند مسلط کرنے کے مترادف ہے۔ پارٹی نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ کے اداریے میں کہا کہ کھانے کی پسند ذاتی آزادی کا معاملہ ہے اور اسے حکومت یا کسی سیاسی تنظیم کو طے نہیں کرنا چاہیے۔ اداریے میں 12 ستمبر کو ’بھارت منڈپم‘ میں منعقدہ گالا ڈنر پر اعتراض کیا گیا، جہاں 11 رکنی برکس گروپ کے رہنماؤں کو صرف ’ویج‘ مینو پیش کیا گیا تھا۔

اداریے میں اس قدم کو عالمی رہنماؤں پر کھانے پینے کی پسند مسلط کرنا قرار دیا گیا۔ ’سامنا‘ میں لکھا گیا کہ خواہ کوئی سبزی خور ہو یا گوشت خور، کھانے کی پسند ذاتی آزادی ہے۔ مینو میں کھانڈوی، مشروم کباب، پنیر لبابدار، ملیٹ پلاؤ، گجراتی اسٹائل ڈھوکلی بےلے سارو، جلیبی اور پھرنی جیسی چیزیں شامل تھیں۔ اداریے میں اس کھانے کو مہمانوں کو گھاس اور جنگلی ساگ کھلانے کے مترادف قرار دیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ ’’دنیا کی 80 فیصد آبادی، جس میں آنے والے زیادہ تر نمائندے بھی شامل ہیں، نان ویج کھانا کھاتی ہے۔ مودی حکومت نے ان پر ویج کھانا مسلط کر کے کیا حاصل کیا؟ اس نے عالمی سطح پر ہندوستان کو مذاق کا موضوع بنا دیا۔‘‘

اداریے میں برکس گالا ڈنر کا موازنہ ہندوستانی شادیوں سے بھی کیا گیا۔ سپریا سولے کی بیٹی ریوتی کی شادی اور بڑے صنعت کاروں کی شادیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں کا کھانا زیادہ لذیذ اور بہتر تھا۔ اس میں کہا گیا کہ دہلی کے مشہور کریم کے نان ویج پکوان، تندوری چکن، بریانی، بٹر چکن، گوا کی فش کری، کولہاپوری پانڈھرا-تامبرا رسا اور مالونی فش جیسے پکوان پیش کیے جاتے تو غیر ملکی مہمان واقعی خوش ہوتے۔

اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہ مینو مہاتما گاندھی کی جائے پیدائش کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے، شیوسینا یو بی ٹی نے کہا کہ گاندھی جی نے کبھی اپنی ذاتی سبزی خور پسند دوسروں پر مسلط نہیں کی۔ اپنی بات کی حمایت میں اداریے میں مثالیں بھی دی گئیں۔ اس میں کہا گیا کہ جب خان عبدالغفار خان اور ان کا خاندان وردھا کے سیواگرام آشرم آئے تھے تو ان کے لیے نان ویج کھانا پکانے کے لیے مرکزی احاطے سے باہر الگ باورچی خانہ بنایا گیا تھا۔ روس کے سرکاری دورے کے دوران سابق وزیر اعظم مورار جی دیسائی، جو سخت شراب بندی کے حامی تھے، نے مقامی روایت کا احترام کرتے ہوئے اپنے گلاس میں ووڈکا ڈلوائی اور اسے بغیر پیے اٹھایا۔

اداریے میں یہ بھی کہا گیا کہ چینی صدر شی جنپنگ کے مہابلی پورم دورے کے دوران مینو میں کئی طرح کے نان ویج پکوان شامل تھے، جن کے لیے ملک بھر سے خصوصی باورچی بلائے گئے تھے۔ اداریے میں حکمراں جماعت اور اس سے وابستہ تنظیموں پر ہندوستان کی متنوع فوڈ کلچر کو تبدیل کرنے کی مہم چلانے کا الزام عائد کیا گیا۔ اس میں اسکولوں میں مڈ ڈے میل کا کنٹریکٹ ’اسکان‘ جیسی تنظیموں کو دینے کا ذکر کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ بچوں کے کھانے سے انڈے ہٹا دیے گئے ہیں۔ اس میں ممبئی جیسے شہروں میں نان ویج کھانے والوں کے ساتھ گھر کرایے پر لینے میں امتیازی سلوک جیسے گھریلو مسائل کا بھی ذکر کیا گیا اور اسے جرم قرار دیا گیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں