سری نگر/جموں و کشمیر میں حالیہ بجلی نرخوںمیں اضافے کے نتیجے میں صارفین پر 251 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ حکومت نے منگل کو قانون ساز اسمبلی میں یہ بات تسلیم کی۔ایم ایل اے سجاد غنی لون کے سوال کے تحریری جواب میں محکمہ بجلی نے بتایا کہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (JERC) کی جانب سے حال ہی میں منظور کیے گئے 6.83 فیصد ٹیرف اضافے سے مالی سال 2026-27 کے دوران ڈسکامز کو اضافی طور پر 251 کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ہے۔
محکمہ نے کہا کہ ٹیرف میں نظرثانی طویل عرصے سے زیر التوا تھی اور بجلی کی فراہمی کی لاگت اور حاصل ہونے والی آمدنی کے درمیان فرق کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ڈسکامز کی سالانہ ریونیو ضرورت (ARR) پوری کرنے کے لیے یہ اضافہ ضروری تھا۔حکومت کے مطابق، اس کے باوجود ڈسکامز کی بجلی خریدنے کی لاگت پوری کرنے کے لیے حکومت کو 4,500 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی برداشت کرنا پڑے گی۔
محکمہ بجلی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر اور مرکزی حکومت کے مختلف محکموں کے ذمے 4,385.30 کروڑ روپے کے بجلی کے بقایاجات واجب الادا ہیں۔محکمہ کے مطابق کشمیر وادی میں گھریلو صارفین سے مالی سال 2025-26 کے دوران 1,455.90 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی، جبکہ 2024-25 میں یہ رقم1,238.07 کروڑ روپے تھی۔
مالی سال 2026-27 میں اگست تک گھریلو صارفین سے 547.79 کروڑ روپےکی آمدنی ہوئی، جس میں میٹر والے صارفین سے 383.08 کروڑ روپے جبکہ فلیٹ ریٹ صارفین سے 164.71 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔حکومت نے مزید بتایا کہ اہلAAY خاندانوں کو 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کی اسکیم کو پی ایم سوریا گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت RESCO پر مبنی روف ٹاپ سولر اسکیم کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔حکومت کے مطابق اسکیم کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل زیرِ جائزہ ہے اور روف ٹاپ سولر سسٹمز کی تنصیب اور کمیشننگ کے بعد اہل خاندانوں کو اس کا فائدہ ملنا شروع ہو جائے گا۔